( سائیکالوجی کی روشنی میں ) محبت اور نفسیاتی بیماریاں تحریر : اسامہ رضا محبت کو بیماری اور پاگل پن تصور کرنا کوئی نئی بات نہیں دنیا کے ہر ادب میں محبت کو جنون اور پاگل پن کے ساتھ تعبیر کر کے ذہنی عارضہ قرار دیا گیا ہے۔ جس میں دل عقل کو ماؤف کردیتا ہے اور انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوجاتی ہے ۔ قدیم زمانہ میں کم علمی کی وجہ سے اسکے اصل محرکات وجوہات کو سمجھنا غیر ممکن تھا۔ لیکن غالب نے آج سے کئ سو سال پہلے کہہ تھا بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا غالب کا عشق کو دماغی خلل کہنا درست اور سائنسی محسوس ہوتا ہے ۔غالب نے دیوانگی کی نیوروسائنس کو جس اختصار سے مصرعے میں سمیٹا واقعی حیران کن اور قابلِ صد تحسین ہے۔ آج نہ صرف محبت کو دماغی عارضے سےتعبیر کیا جاتا ہے بلکہ اس بیماری کے تدارک کیلیئے سائیکالوجسٹ ادوایات بھی تجویز کرتے ہیں ۔ آج اس عارضے کو اس سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور مارکیٹ میں Anti love ڈرگز بھی ذہنی خلشوں کے تدارک کیلئے دستیاب ہیں ۔ عشق و ...
I am a writer , Psychologist and psychotherapist This blog is about my famous articles of mental health and other articles related to Psychology.