Skip to main content

Posts

Showing posts from July, 2021

Psychological disorders and love-Osama Raza - محبت اور نفسیاتی بیماریاں

 ( سائیکالوجی کی روشنی میں ) محبت اور نفسیاتی بیماریاں  تحریر : اسامہ رضا محبت کو بیماری اور پاگل پن تصور کرنا کوئی نئی بات نہیں دنیا کے ہر ادب میں محبت کو جنون اور پاگل پن کے ساتھ تعبیر کر کے ذہنی عارضہ قرار دیا گیا ہے۔  جس میں دل عقل کو ماؤف کردیتا ہے اور انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوجاتی ہے ۔ قدیم زمانہ میں کم علمی کی وجہ سے اسکے اصل محرکات وجوہات کو سمجھنا غیر ممکن تھا۔ لیکن غالب نے آج سے کئ سو سال پہلے کہہ تھا  بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل  کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا  غالب کا عشق کو دماغی خلل کہنا   درست اور سائنسی  محسوس ہوتا ہے ۔غالب نے دیوانگی کی نیوروسائنس کو جس اختصار سے مصرعے میں سمیٹا واقعی حیران کن اور قابلِ صد تحسین ہے۔   آج نہ صرف محبت کو دماغی عارضے  سےتعبیر کیا جاتا    ہے بلکہ اس بیماری کے تدارک کیلیئے سائیکالوجسٹ  ادوایات بھی تجویز کرتے ہیں  ۔ آج اس عارضے کو اس  سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور مارکیٹ میں Anti love ڈرگز بھی ذہنی خلشوں کے تدارک کیلئے دستیاب ہیں ۔ عشق و ...

Relation between Beauty and love -Osama raza-حسن و عشق کا تعلق

سائیکالوجی کی روشنی میں  حسن و عشق کا تعلق  تحریر : اسامہ رضا حسن و عشق کے تعلق کی داستانیں ہر زمانہ ادب میں بدرجہ اتم ملتی ہیں  ۔ شعر و شاعری کے گلزار سے لیکر افسانوں کے سنسار تک حسن و عشق کا چولی دامن کا ساتھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں جہاں حسن پنپتا ہے وہاں وہاں عشق و محبت کا جذبہ پروان چڑھتا نظر آتا ہے  ۔ عورتوں کے حسن و جمال کی طرف عشاق کا رجحان تو  تاریخی و ادبی نوشتوں میں  محفوظ ہے۔ لیکن حسن و عشق کے اس بے مثال ساتھ اور لازوال ربط میں پنہاں وجوہات کے اوراق ادب و تاریخ سے غائب ہیں ۔ انسانی نفسیات کا حسن سے   عشق و محبت  کا تعلق ہزاروں سالوں پرانا ھے لیکن آج ہم نفسیاتی و نیورو سائنسی علم کے چراغوں سے تاریکیوں میں ڈھکی اندھیروں کی قباء اوڑھے وجوہات کو ذہنِ انسانی کی گہری کھائیوں سے با آسانی تلاش کر سکتےہیں ۔ جدید سائنس کی روشنی میں احساسات و جذبات کے سارے اختیارات اب دل سے چھین کر دماغ کو منتقل کر دیے گئے ہیں ۔ لہٰذا اب احساسات و جذبات  کا سارا نظام دماغ کے زیرِ اثر ہے اس لیے احساسات و جذبات کی ترسیل و تعطل کا جواب دہ دماغ ہے۔  ...

Theory of evolution and Love -Osama Raza جذبہِ محبت اور ارتقاء

جذبہِ محبت اور ارتقاء  تحریر  : اسامہ رضا آج کے اس جدید دور میں انسانی نفسیات کا مطالعہ لاکھوں برس پہلے گزرے  شب و روز کو احاطہ فہم میں لائے بغیر  غیر ممکن نظر آتا  ہے ۔  انسانی نفسیات چند ساعتوں میں عدم سے وجود کی کتھا نہیں بلکہ یہ داستان لاکھوں سالوں پہ محیط ہے ۔ میدانِ زمان میں ذہنِ انسانی پہ گرد و پیش کے وار اور ماحول کے گھاؤ آج بھی ماضی کے ٹھکانوں کا پتا دیتے ہیں اور اپنے کپکپاتے لبوں سے ارتقاء کی بے رحم اور باکرم کہانی سناتے ہیں ۔  انسانی نفسیات  کی تشکیل ارتقاء کی آپ بیتی ہے۔ ماحول کی آندھیوں اور گرد و نواح کے طوفانوں نے انسانی ذہن میں پنپنے والے احساسات و جذبات کو وجود بخشا ہے۔ محبت , غم , غصہ , خوشی , خوف تقریباً سارے احساسات و جذبات کا تعلق اور اس صورتحال میں پیدا ہونے والے رویوں کا تعلق بقائے نسلِ انسانی سے ہے۔اگر صرف خوف و خطر کے احساسات سے انسان محروم ہوتا تو نسلِ انسانی شاید لاکھوں برس پہلے ہی معدوم ہوچکی ہوتی ۔ مثلاً اگر جنگل میں بسنے والے انسان جنگلی جانوروں سے ڈرنا اور بچنا چھوڑ دیتے تو انکی اموات انکی اسی شجاعت کی بدولت یقینی تھ...

Sigmund Freud 4-Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ قسط : نمبر 5  تحریر : اسامہ رضا  سگمنڈ فرائیڈ نے اپنے نظریات کے تناظر میں محبت کی دو توجیہات پیش کیں ۔ پہلی  توجیہہ کے مطابق انسان کے لاشعور میں اڈ کی قوت انسان کو ہمیشہ تلذذ و تسکین کیلئے سرگرداں رکھتی ہے اور اسکا اظہارِ طفولت کے ادوار سے گزرتے ہوئے عنفوانِ شباب میں کسی نہ کسی طور اظہار ہوتا رہتا ہے۔ بچہ شروع میں جنسی لذتوں کی تسکین کی تحریک کی تکمیل کیلئے مختلف اعادات اور مختلف اعضاء کو مرکز بناتا ہے۔  فرائیڈ کے مطابق انسان کی تلذذ و تسکین اور راحت و سکون کی یہ خواہشات اسکو کسی شخص کی محبت میں مبتلاء کرتی ہیں   ۔ اس طرح فرائیڈ کی نظر میں محبت اصل میں جنسی خواہشات کی تکمیل کی چال ہوتی ہے اور  اسکا مقصد جنسی لذتوں کے علاوہ بقائے نسل بھی ہوتا ہے  ۔ یہی وجہ ہے کے محبتوں کے مبینہ رشتوں کی مظبوطی و تقویت کے باوجود لوگ محبتوں کے علاوہ بھی دوسرے لوگوں سے تعلق رکھتے ہوئے نظر آتے ہیں کیونکہ جنسی لذتوں کے تنوع میں لذتوں کی لذت مستور ہوتی ہے۔ اس لیے محبت کا تصور   فرائیڈ کے نزدیک واحدانیت اور یک صنم کے گرد محوِ گردش ہونے کی بجا...

Sigmund Freud 3-Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

سگمنڈ فرائیڈ قسط : ۳   تحریر : اسامہ رضا  انسانی شخصیت کی تعمیر میں موروثیت سے کہیں زیادہ اسکے ماحول کا اثر ہوتا ہے ۔ شخصیت کی تعمیر کے نموئی مراحل ہی اسکی تکمیل کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ اور ان مراحل کا موصول تجربہ ہی اسکی شخصیت اور اسکے مزاج کی کانٹ چھانٹ کر کے اسے ایک جدا شخصیت بناتا ھے ۔ ہر انسان ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے اسکی شخصیت اسکا مزاج اسکی طبع ہر عمل ایک طرح سے منفرد اور کھربوں انسانوں سے یگانہ ہوتا ہے ۔ ایک ہی والدین ہونے کے باوجود بہن بھائیوں کا آپس میں اس قدر جدا طبیعت رکھنا موروثی قوتوں کی تعمیرِ ذات میں شراکت کی نفی کرتا ہے۔ اگر بچے والدین کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں تو ایک ہی والدین رکھنے والے بچے ایک دوسرے سے اتنے مختلف اور منفرد کیوں ہوتے ہیں ؟ وہ کونسے عوامل اور وہ کونسی جادوئی قوتیں ہیں جو انسان کو ایک جدا شخص بناتی ہیں ؟ بچے کی نفسیات آخر کن مراحل کے مرہونِ منت ہوتی ھے ؟ آئیے اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سگمنڈ فرائڈ نے اپنی  تھیوری psychosexual stages of  human  development  میں شخصیت کی تعمیر کے پانچ مراحل بتائیں ہیں ۔ ف...

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...

History of Psychological Disorders- 3.4- Osama Raza - نفسیاتی امراض کی تاریخ

 [9:01 PM, 7/12/2021] Osama Raxa: #نفسیات  نفسیاتی امراض کی تاریخ  قسط : 3۰4  قدیم یونان کے ہاں نفسیاتی امراض کا تصور  تحریر : اسامہ رضا  اہلِ یونان کے ہاں ذہنی امراض کے اسباب کو مافوق الفطرت قوتوں میں تلاش کرنے کا رواج تھا۔ پاگل پن اور نفسیاتی مریضوں کو عبادت کدوں میں علاج کی غرض سے لایا جاتا تھا ۔  البتہ یونانی دانشوروں اور فلاسفروں کے ہاں ذہنی بیماریوں کو جسمانی علتوں میں کھوجنے کا تصور بھی قائم تھا ۔ ذہنی امراض کو جسمانی بیماریوں کی طرح بیماری تصور کرنے کا عام تصور باوا طب بقراط کی بدولت ممکن ہوسکا ۔ بقراط کے مطابق جسم بنیادی طور پر چار خلطوں کی تشکیل سے ہے۔  خون Blood  بلغم Phlegm  پیلے پت Yellow bile  سیاہ پت Black bile  ان  چار مفروض رطوبتوں میں جونہی  تغیرات سے  انکا توازن  بگڑتا ہے تو انسان بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا چاہے وہ پھر نفسیاتی امراض ہوں یا جسمانی امراض ۔ امامِ طب بقراط نے نفسیاتی عارضوں کو  چار اقسام میں منقسم کیا  Epilepsy  Mania  Melancholia  Brain fever  جب...

History of Psychological Disorders- 3.3- Osama Raza - نفسیاتی امراض کی تاریخ

 #نفسیات  نفسیاتی امراض کی تاریخ  قدیم مصر و یونان کے ہاں نفسیاتی امراض کا تصور قسط : 3۰3  تحریر : اسامہ رضا   " نقشِ فریادی ہے کس  کی شوخیِ تحریر کا "  نفسیاتی امراض کی تاریخ میں کچھ اہم نوشتوں کا تعلق قدیم مصر و میسپوٹومیا سے جا ملتا ہے۔ تحریر و قلم کی یہ تاریخی تصویر اہلِ مصر کے ہاں آبی درخت کے تنے پر لکھنے سے منسلک ہے ۔ قدیم مصریوں میں  آبی درخت کے تنے کو شیٹ میں تبدیل کرکے اس پہ لکھنے کا رواج تھا اور اس شیٹ کو پیپرس Papyrus کہا جاتا ہے جس پر نہ صرف لکھنے کا کام کیا جاتا تھا بلکہ تحریر کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی بنائی جاتی تھیں ۔  پیپرس ( Papyrus) پر موجود  متن میں مختلف و متنوع موضوعات پر اہلِ مصر کے دانشوروں نے قلمبندی کی ہے۔ پیپیرس(kahun papyrus ) کی  دریافت  لاہن Lahun کے مقام پر موجود فرعونیت کے سلسلے کے بارویں خاندان کے فرعون "Sesostris 2" کے اہرام کی کھدائی کے وقت منظرِ عام پر آئی ۔  پیپیرس(  Papyrus ) کی ایک بڑی تعداد میں سے ایک قدیم پیپیرس(  Papyrus ) کو " Kahun Papyrus " کہا  جاتا ہے ۔  جبک...

History Of Psychological Disorders 3.1-Osama Raza- نفسیات امراض کی تاریخ

 نفسیات  قسط :. 3.1  نفسیات امراض کی تاریخ تحریر : اسامہ رضا  ذہنی امراض کی تاریخ کے تناظر میں ہمیں  ہر معاشرے میں    تین مختلف نظریات ملتے ہیں ۔  ۱ ) حیاتیاتی نظریات ( Theories Biological )  ۲) مافوق الفطرت نظریات  ( Super-natural Theories )   ۳)نفسیاتی نظریات ( Psychological Theories )    حیاتیاتی نظریات  ( Theories Biological )  حیاتیاتی نظریات ذہنی امرا ض کی علت جسمانی تغیرات و خرابیوں کو قرار دیتے ہیں ۔ یوں ذہنی امراض کا تعلق آرگنز کے افعال میں خرابی سے جوڑا جاتا ھے۔ گویا حیاتیاتی تناظر میں کہا جائے تو ذہنی امراض کا تعلق طبعی وجوہات میں مضمر ہے ۔ مافوق الفطرت نظریات  ( Super-natural Theories )  :  ایسے نظریات قدیم خیالات کے عکس ہیں جو اب بھی کسی نہ کسی طرح مختلف معاشروں میں پائے جاتے ہیں ۔ مافوق الفطرت نظریات ذہنی امراض کا تعلق جنات , بد روحوں اور روحوں کی مداخلت سے جوڑتے ہیں ۔ اور اسکا حل بھی مختلف تنتر منتر سے کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ نفسیاتی نظریات ( Psychological Theories )  ...

History of Psychological disorders - Osama Raza - نفسیاتی امراض کی تاریخ

#نفسیات  قسط:3.2 نفسیاتی  امراض کی تاریخ  تحریر  : اسامہ رضا  قدیم تصورات :  ذہنِ انسانی نے ہمیشہ سے ذہنی امراض کو غیر معمولی تجسس اور فکر سے پرکھنے کی سعی کی ہے۔ قبل از تاریخ کے ادوار سے لیکر عصرِ حاضر کے زمانے تک مختلف تصورات نے انسانی تجسس کے رفع کیلئے ہزاروں گمانوں کو تصورات بنایا متعدد زاویہِ افکار نے کئ نظریات کو جنم دیا ۔  گویا ماضی کے ان زمانوں میں بھی ذہنی امراض کے بارے میں مختلف تصورات نے انسانوں کی فکر پر راج کیا یہ وہ وقت تھا کے انسان  دستاویزات و نوشتوں سے بے بہرہ تھا وہ تحریر و قلم سے بہت دور تھا۔ ایسے تصورات کا علم ہم تک بعدازاں تحریر و قلم کو دریافت کرنے والی تہذیبوں کے توسط سے اور جیولوجیکل ریسرچ سے کسی نہ کسی حد تک ہم تک پہنچا ہے۔ گویا پھر بھی یہ قبل از تاریخ کی وہ ان کہی داستان ہے جس کے مختلف اجزاء تو ہم تک پہنچے ھیں لیکن اسکی مکمل تصویر ھمارے پاس نہیں ہے۔ مزید یہ کے یہ  ذہنی امراض کی تاریخ  ہے لہٰذا اسے بطورِ تاریخ دیکھنا چاہیے ۔ آج بھی  معاشرے میں رائج الوقت تصورات قبل از تاریخ لوگوں کی اختراعات ہیں ۔ تاریخ دان...

جانور کو ذبح کرتے وقت کی جانے والی غلطیاں

 آپ نے یقیناً کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ قربانی کے گوشت کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا، اس میں سے ایک ناگوار سی مہک یا بو آتی ہے اور یہ جلدی گلتا یعنی پکتا بھی نہیں۔ ہوسکتا ہے یہ سب کچھ آپ نے بھی محسوس کیا ہو۔ اگر ہاں تو کیا کبھی سوچا کہ ایسا کیوں یے؟ اگر غور کرنے کا وقت نہیں ملا تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے بڑا مہنگا جانور خرید رکھا ہو، لیکن معذرت کے ساتھ آپ کو جانور ذبح کرنا یا کروانا نہیں آتا۔۔ اگر یقین نہیں آرہا تو پھر یہ باتیں غور سے سنیں، سمجھیں اور اس عید قربان پر ان پر عمل کریں۔ آپ خود ہی کہیں گے کہ قربانی کا گوشت تو ہم آج پہلی دفعہ کھا رہے ہیں، کیونکہ ایسا مزیدار، صحت بخش اور خوشبودار جنتی گوشت آپ نے پہلے کبھی نہیں کھایا ہوگا۔ آپ کو کرنا کیا ہوگا؟ کچھ بھی نہیں۔  بلکہ دین کی روشنی اور ذبیحے کی سائنس کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے میرٹ پر جانور ذبح کروانا اور گوشت بنوانا ہے اگر آپ پاکیزہ، خوشبودار اور ذائقہ دار گوشت کھانے کے واقعی خواہشمند ہیں تو پھر سنیے۔ ذبح کرنے کی چھری آپ کی نیتوں کی مثل اچھی طرح تیز ہونی چاہیے، ذبح کرنے سے قبل جانور کو خوب کھلا پلا لیں اور جانورو...

Zindagi - زندگی ؟؟؟ از قلم اسامہ رضا

زندگی کیا ہے ؟ زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ حیات کی تخلیق کے محرکات کیا ہیں ؟ زندگی کو کیوں وجود ملا یا کیوں بنائی گئ ؟  تاریخِ انسانی کا سارا لٹریچر چاہے وہ سائنسی و فلسفیانہ نوعیت کا ہو یا مذہبی نوعیت کا  ,  ان سوالات کا  تشفی و تسلی بخش جواب دینے سے نہ جانے کیوں قاصر رہا ہے ؟   اس بحث کو چھیڑے بغیر اگر ہم اس بات پر غور کریں کے کامیاب زندگی کیا ہے ؟ کیا زندگیوں کو کامیاب بنانے کیلئے خوشیوں کا ہونا لازمی ہے ؟ کیا خوشیوں اور آسائشوں کی تمنا کرنا اور پھر انکے حصول کیلئے اپنی ساری زندگی لگا دینا زندگیوں کو کامیاب بناتا ہے ؟  کیا کار کوٹھیاں , دنیا کی مادی آسائشیں ہماری زندگیوں کو خوشیاں فراہم کرتی ہیں ؟ کیا دنیا کے امیر ترین انسان اپنی زندگیوں میں خالی پن کا شکار نہیں ہیں ؟ اگر نہیں ہیں تو دنیا میں ہونے والے سریویز کا ڈیٹا ہمیں یہ کیوں  بتاتا ہے کے خودکشیاں کرنے والے اور ڈپریشن میں مبتلاء لوگوں کی بڑی تعداد کا تعلق امیر و کبیر خاندانوں سے ہے ؟ یعنی اسکا آسان معنیٰ کیا یہ ہوا کے مادی آسائیشیں اور دنیاوی تصنع ہمارے اندر کے خالی پن کو نہیں بھر سکتا ؟  ...