Skip to main content

History of Psychological Disorders- 3.3- Osama Raza - نفسیاتی امراض کی تاریخ

 #نفسیات 

نفسیاتی امراض کی تاریخ 

قدیم مصر و یونان کے ہاں نفسیاتی امراض کا تصور

قسط : 3۰3 

تحریر : اسامہ رضا

 

" نقشِ فریادی ہے کس  کی شوخیِ تحریر کا " 

نفسیاتی امراض کی تاریخ میں کچھ اہم نوشتوں کا تعلق قدیم مصر و میسپوٹومیا سے جا ملتا ہے۔

تحریر و قلم کی یہ تاریخی تصویر اہلِ مصر کے ہاں آبی درخت کے تنے پر لکھنے سے منسلک ہے ۔ قدیم مصریوں میں  آبی درخت کے تنے کو شیٹ میں تبدیل کرکے اس پہ لکھنے کا رواج تھا اور اس شیٹ کو پیپرس Papyrus کہا جاتا ہے جس پر نہ صرف لکھنے کا کام کیا جاتا تھا بلکہ تحریر کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی بنائی جاتی تھیں ۔ 

پیپرس ( Papyrus) پر موجود  متن میں مختلف و متنوع موضوعات پر اہلِ مصر کے دانشوروں نے قلمبندی کی ہے۔

پیپیرس(kahun papyrus ) کی  دریافت  لاہن Lahun کے مقام پر موجود فرعونیت کے سلسلے کے بارویں خاندان کے فرعون "Sesostris 2" کے اہرام کی کھدائی کے وقت منظرِ عام پر آئی ۔ 

پیپیرس(  Papyrus ) کی ایک بڑی تعداد میں سے ایک قدیم پیپیرس(  Papyrus ) کو " Kahun Papyrus " کہا  جاتا ہے ۔ 

جبکہ Kahun Papyrus بھی کثیر موضوعات کا متن اپنے سینے پہ نقشِ فریادی کی مانند سلامت رکھے ہے۔ 

جس میں سے Lahun Mathematical Papyri ریاضی کے موضوعات کا سرچشمہ ہے 

جبکہ Kahun Gynaecological Papyrus قدیم طبی دستاویزات کا مجموعہ ہے اگرچہ یہ طب کی تاریخ کا قدیم ترین نسخہ نہیں ہے ( فیلیڈیلفیا کے میوزیم میں موجود سمیری تہذیب کی مٹی کی اینٹوں کے قدیم طبی نسخوں کو قدامت کی فہرست میں اولیٰ مقام حاصل ہے ) ۔

اس قدیم شیٹس کی ایک بڑی تعداد کا سہرا Flinders Petrie کے سر ہے جس نے 1889 میں انہیں دریافت کیا اور 1893 میں F.LI Griffith نے اسکا ترجمہ کیا ۔

الغرض Kahun Gynaecological Papyrus کے متن کے مطابق اہلِ مصر کے ہاں نفسیاتی بیماریوں کا تصور اور اسکی علت و وجوہات  کے بیانیے کے ساتھ اسکے علاج کا تصور بھی ملتا ہے۔ 

خاص طور پر امراضِ نسواں کا بیانیہ جس کی رو سے خواتین میں ابنارمل رویہ اور پاگل پن کی وجوہات کو طبعی افعال سر انجام دینے والے آرگنز سے جوڑا گیا ۔ گویا اہلِ مصر کے ہاں مافوق الفطرت قوتوں کی بجائے نفسیاتی امراض کا سبب بھی جسم میں تلاش کرنے کی روایت تھی ۔ اسی طرح خواتین کے پاگل پن کا سبب اہلِ مصر کے ہاں Wandering uterus تھا یعنی اہلِ مصر سمجھتے تھے کے خواتین میں یوٹرس Uterus اپنی مخصوص جگہ سے ہٹنے کے باعث خواتین میں جنون اور پاگل پن کی کیفیت کا آغاز ہوتا ہے اور یوٹرس کا کسی اور   جسمانی آرگن  کے ساتھ تعامل کی صورت خواتین میں پاگل پن کو جنم دیتی ہے۔ 

بعدازاں اہلِ یونان نے مصریوں کے اس تصور سے ہسٹیریا Hysteria کی اصطلاح کو تشکیل دیا ۔ یونانی زبان میں  hystera کا لفظ یوٹرس کیلئے مستعمل ہے ۔ 

مصرعی پیپیرس میں اس نسوانی مرض کا علاج تیز خوشبوؤں کے سونگھانے سے منسلک تھا جس سے انکا خیال تھا کے  خوشبو کی     اثر انگیزی سے یوٹیرس اپنی جگہ پر واپس آنا ممکن ہے۔


Refernces : 

IIza Veith. Hysteria : The history of disease (University of Chicago press, 1965 p2. I. Veith) 

Abnormal Psychology


https://en.m.wikipedia.org/wiki/Kahun_Papyri


https://www.google.com/search?q=senusret+ii&oq=sen&aqs=chrome.1.69i57j69i59l2j0i433l2.5125j1j4&client=ms-android-huawei-rev1&sourceid=chrome-mobile&ie=UTF-8

https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC3480686/

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...