Skip to main content

History of Psychological disorders - Osama Raza - نفسیاتی امراض کی تاریخ

#نفسیات 
قسط:3.2
نفسیاتی  امراض کی تاریخ 
تحریر  : اسامہ رضا 

قدیم تصورات : 
ذہنِ انسانی نے ہمیشہ سے ذہنی امراض کو غیر معمولی تجسس اور فکر سے پرکھنے کی سعی کی ہے۔ قبل از تاریخ کے ادوار سے لیکر عصرِ حاضر کے زمانے تک مختلف تصورات نے انسانی تجسس کے رفع کیلئے ہزاروں گمانوں کو تصورات بنایا متعدد زاویہِ افکار نے کئ نظریات کو جنم دیا ۔ 

گویا ماضی کے ان زمانوں میں بھی ذہنی امراض کے بارے میں مختلف تصورات نے انسانوں کی فکر پر راج کیا یہ وہ وقت تھا کے انسان  دستاویزات و نوشتوں سے بے بہرہ تھا وہ تحریر و قلم سے بہت دور تھا۔ ایسے تصورات کا علم ہم تک بعدازاں تحریر و قلم کو دریافت کرنے والی تہذیبوں کے توسط سے اور جیولوجیکل ریسرچ سے کسی نہ کسی حد تک ہم تک پہنچا ہے۔ گویا پھر بھی یہ قبل از تاریخ کی وہ ان کہی داستان ہے جس کے مختلف اجزاء تو ہم تک پہنچے ھیں لیکن اسکی مکمل تصویر ھمارے پاس نہیں ہے۔ مزید یہ کے یہ  ذہنی امراض کی تاریخ  ہے لہٰذا اسے بطورِ تاریخ دیکھنا چاہیے ۔

آج بھی  معاشرے میں رائج الوقت تصورات قبل از تاریخ لوگوں کی اختراعات ہیں ۔ تاریخ دانوں کے مطابق قبل از تاریخ جب لوگوں کا ذہنی مریض سے واسطہ پڑتا , یا کوئی شخص عجیب و غریب حرکات و بے معنی گفتار پر اتر آتا تو سمجھا جاتا کے اس کے اوپر جنات یا روحوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ اور اسکے علاج معالجے کیلئے مافوق الفطرت تصورات  کا سہارا لیا جاتا۔ اور مختلف معاشروں میں رائج الوقت مذہبی اور روایتی جھاڑ پھونک (Exorcism ) کرکے بد روحوں کو بھگانے کا امر سر انجام دیا جاتا ۔  شمن پرست  روحوں کے ساتھ تنتر منتر یا مخصوص طریقے  سے بدروحوں کو بھگانے کا کام کرتے تھے ۔ یہ تصورات سے شمالی امریکہ سے لیکر ایشیاء  تک پھیلے ہوئے تھے۔ جبکہ اکثر ذہنی مریضوں کو مارنا اور زدوکوب کرنا بھی بدروحوں کو بھگانے کے طریقوں کا جز سمجھا جاتا تھا۔ بات یہی ختم نہیں ہوتی ایسے ذہنی مریض جن کا مرض غیر معمولی شدت اختیار کرلیتا انکو قتل کردیا جاتا۔

پتھر کے زمانے ( Stone age ) اور حتٰی کے قرونِ وسطیٰ ( Midlle ages ) میں  ذہنی مریضوں کی کھوپڑیوں میں سوراخ, بدروحوں و جنات کو بھگانے کی غرض سے کیے جاتے تاکہ سوراخ کے رستے بدروح و جنات نکل سکیں ۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ ( Archaeologists ) نے کئ ایسی کھوپڑیاں اور اوزار دریافت کیے ہیں ۔ ایسے اوزار جو کھوپڑی میں سوراخ کی غرض سے مستعمل تھے انکو Trephine اور ایسے آپریشن کو Trephination کہا جاتا ہے۔ خیر ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے کے ایسے آپریشنز بد روحوں کو نکالنے کے لیے کیے جاتے تھے ۔ ایسے  آپریشنز کی طبی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں اور سزائیں  بھی اسکی وجہ ہوسکتی ہیں  ۔ 

قدیم چائنہ اور ذہنی امراض کی داستان : 

ذہنی امراض کے علاج کے قدیم  نوشتے قدیم چینی طبی کتابوں سے ماخوذ ہیں ۔ تقریباً 2674 قبلِ مسیح میں Nei Ching  Classic of internal  medicine قدیم ترین کتاب ہے جسے Haung Ti کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ 

ین ( Yin )اور  یینگ (Yang)  کا تصور :

     قدیم چینی طب Yin اور Yang کے تصور پر  قائم تھی ۔ یعنی انسانی جسم مثبت قوت  Yang اور منفی قوت Yin پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ دونوں قوتیں ہمہ وقت نبرد آزما ہوتی رہتی ہیں ۔ اگر دونوں قوتیں اور دونوں تحریکوں میں توازن برقرار رہے گا تو انسان صحت مند ہوگا بصورتِ دیگر وہ عارضوں اور ابتلاؤں میں مبتلاء ہوجائے گا۔ اور گر جسمانی عارضہ نہیں ہوا تو وہ پاگل پن یعنی ذہنی مریض بن جائے گا ۔ اس تصور کے مطابق Yang کی قوت و تحریک جب شدت پکڑ کے منفی تحریک کو دبا دیتی ہے تو انسان پاگل پن کا شکار ہوجاتا ہے۔ 

"اور جو شخص پاگل پن یا ذہنی عارضے میں مبتلاء ہوتا ہے اول تو وہ خود کو دکھی محسوس کرتا ہے,  زیادہ کھاتا ہے اور کم سوتا ہے ۔ پھر وہ خود کو بڑا بزرگ ( ٹھاٹھ باٹ ) اور بڑا سمجھدار اور نیک تصور کرتا ہے ۔ وہ اونچی اونچی گانا اور بولنا شروع کردیتا ہے۔اور سمجھتا ہے کے وہ دیوتاؤں اور شیطانوں کو دیکھ سکتا ہے اور عجیب و غریب چیزوں کو سننے اور دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے علاج کے واسطے انکا کھانا پینا کنٹرول کردیا جاتا تھا چونکہ یہ خیال کیا جاتا تھا کے کھانا مثبت تحریک کا متحرک بنتا ھے اور  ایسے شخص کی مثبت تحریک کو کم کرنے کی ضرورت ہوتی ھے " 
(Tseng, 1973,p.570)

قدیم چائنہ میں انسانی جذبات و احساسات کو لیکر ایک دوسرا تصور بھی قائم تھا ۔ یہ تصور وائٹل ایئر ( Vital Air ) کا تصور تھا۔ قدیم چینی لوگوں کا خیال تھا کے انسانی احساسات و جذبات کو اسکے اندر موجود عضو کنٹرول کرتے ہیں ۔ اور جب بھی یہ وائٹل ایئر ( Vital Air ) کا گزر کسی مخصوص اندرونی عضو Internal Organ سے ہوتا ہے تو انسان ایک مخصوص جذبے کو محسوس کرتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ یہ مانتے تھے جب وائٹل ایئر ( Vital Air ) کا گزر دل سے ہوتا ہے تو انسان خوشی و مسرت جیسے جذبات کو محسوس کرتا ہے۔ جب 
وائٹل ایئر ( Vital Air ) کا گزر پھیپھڑوں سے ہوتا ہے تو انسان دکھی و غمزدہ محسوس کرتا ہے۔ جب یہ وائٹل ایئر ( Vital Air ) اپنا رستہ گردوں ( Kidney ) کو بناتی ہے تو انسان خوفزدگی کے جذبات کو محسوس کرتا ہے ۔ 

جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

For Refernces : 

Histori c al perspective on Abnormality ( Abnormal Psychology - Susan Nolen-Hoeksema ) 

(Feldman & Goodrich, 2001)

The development of Psychiatric concepts in
 traditions
  (Tseng, 1973) 

 https://en.m.wikipedia.org/wiki/Shamanism#:~:text=Shamanism%20is%20a%20religious%20practice,for%20healing%20or%20another%20purpose

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...