سائیکالوجی کی روشنی میں
حسن و عشق کا تعلق
تحریر : اسامہ رضا
حسن و عشق کے تعلق کی داستانیں ہر زمانہ ادب میں بدرجہ اتم ملتی ہیں ۔ شعر و شاعری کے گلزار سے لیکر افسانوں کے سنسار تک حسن و عشق کا چولی دامن کا ساتھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں جہاں حسن پنپتا ہے وہاں وہاں عشق و محبت کا جذبہ پروان چڑھتا نظر آتا ہے ۔ عورتوں کے حسن و جمال کی طرف عشاق کا رجحان تو تاریخی و ادبی نوشتوں میں محفوظ ہے۔ لیکن حسن و عشق کے اس بے مثال ساتھ اور لازوال ربط میں پنہاں وجوہات کے اوراق ادب و تاریخ سے غائب ہیں ۔ انسانی نفسیات کا حسن سے عشق و محبت کا تعلق ہزاروں سالوں پرانا ھے لیکن آج ہم نفسیاتی و نیورو سائنسی علم کے چراغوں سے تاریکیوں میں ڈھکی اندھیروں کی قباء اوڑھے وجوہات کو ذہنِ انسانی کی گہری کھائیوں سے با آسانی تلاش کر سکتےہیں ۔
جدید سائنس کی روشنی میں احساسات و جذبات کے سارے اختیارات اب دل سے چھین کر دماغ کو منتقل کر دیے گئے ہیں ۔ لہٰذا اب احساسات و جذبات کا سارا نظام دماغ کے زیرِ اثر ہے اس لیے احساسات و جذبات کی ترسیل و تعطل کا جواب دہ دماغ ہے۔
حسن و عشق کے تعلق کا اختصار سے نفیساتی و سائنسی جائزہ لیتے ہیں ۔
دماغ چونکہ پورے جسم کو کنٹرول کرتا ہے اور اس وجودِ طبعی کی زمہ داری دماغ ( شعور ) کے پاس ہوتی ہے تو دماغ مختلف نیورونز کے ذریعے کیمیکل کے اخراج کے ذریعے مختلف احساسات و جذبات کو جنم دیتا ہے۔
مثال کے طور اگر کوئی شخص کسی گرم چیز کو پکڑ کر رکھے تو دماغ تکلیف و درد کے جذبے کو وجود بخشتا ہے تاکہ گرمی کی حدت سے ہاتھ کو محفوظ رکھا جاسکے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص کسی خوشبو کو سونگھتا ھے تو دماغ ڈوپامائن کیمیکل کا اخراج کرتا ہے جس سے اس شخص کو راحت و مسرت کا احساس ہوتا ہے اور تا دیر انسان کی قوتِ شامہ اس خوشبو کے تعاقب میں رہے گی۔
یعنی انسانی جذبات و احساسات انسانی وجود کے مفاد سے منسوب ہوتے ہیں جن کا ہیڈکوارٹر دماغ ہوتا ھے۔
انسان کا خوبصورت صورتوں کی طرف مائل ہونا بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جب بھی ہم کسی خوبصورت شخص کو دیکھتے ہیں تو اسکے چہرے و جسم کے طبعی خدوخال ہمارے لاشعور میں اس سے ملنے والے جنسیات لذت سے لیکر تمام مفادات کا احاطہ کر چکا ہوتا ہے ۔ اور اس سلسلے کو بلا تعطل رکھنے اور تواتر بخشنے کیلیئے دماغ میں موجود ریوارڈ سسٹم ہمیں خوشی و مسرت اور راحت و سکون جیسے احساسات کو جنم دیتا ہے ۔
خوبصورت چہروں کو دیکھنے اور انکی طرف شعوری و لاشعور طور پر توجہ کا مائل ہونا انہیں کیمیکلز کی سازش ہوتی ہے۔ غالب نے کہا تھا
ان کو دیکھے سے جو آتی ہے چہرے پر رونق
وہ سمجھتے ہیں بیمار کا حال اچھا ہے۔۔
چہرے کی رونق کا ذکر تو غالب نے بڑے احسن طریقے سے کر کے محبت میں مضمر راحت و سکون کی حقیقت کا بیان کردیا تھا لیکن آج نیوروسائنس اسکی مستند اور معقول شرح بھی کر چکی ہے۔
Comments
Post a Comment