Skip to main content

Posts

"4 Types of Gaslighting in Families"

 *"4 Types of Gaslighting in Families*" *" فیملیز میں گیس لائٹنگ کی چار اقسام*" *". پہلا حصہ*" *"گیس لائٹنگ کیا ہے؟*" گیس لائٹنگ نفسیاتی بدسلوکی (Psycholohical abuse) کی ایک شکل ہے جس میں ایک شخص یا گروہ کسی انسان کو  اپنی عقل، یادداشت یا حقیقت کے ادراک پر سوال اٹھانے /الجھن میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ جو لوگ گیس لائٹنگ کا تجربہ کرتے ہیں وہ الجھن، فکر مند، یا گویا وہ خود پر بھروسہ نہیں کر پاتے۔ "گیس لائٹنگ" کی اصطلاح 1938ء کے ایک ڈرامے اور 1944ء کی فلم "Gaslight"کے نام سے ماخوذ ہے ، جس میں ایک شوہر اپنی بیوی کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اسے کوئی ذہنی بیماری ہے۔ *"اہم نکات*"  * گیس لائٹنگ ہیراپھیری (manipulation) کی ایک تکنیک ہے۔جو عام طور پر رومانوی رشتوں میں استعمال ہوتی ہے، جو کسی شخص کو اس اپنے ہی تجربات پر شک میں مبتلا کرتی ہے۔ * خاندانی حرکیات بھی گیس لائٹنگ کی ایک شکل ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ بچپن میں شروع ہوتی ہیں اور جوانی تک جاری رہتی ہیں۔ * کسی کے خاندان میں گیس لائٹنگ کی حرکیات کو پہچاننا اپنے آ...
Recent posts

*"Family Therapy*"

 *"Family Therapy*" *"فیملی تھیراپی*" فیملی تھیراپی کو اکثر میریٹل تھیراپی کے ساتھ مدغم کر دیا جاتا تھا جبکہ دونوں تھیراپیز اوریجن کے لحاظ سے مختلف تھیں۔ فیملی تھیراپی اس وقت متعارف ہوئی جب انفرادی تھیراپی کے نتائج کو ملاحظہ کیا گیا۔ جب کوئی کلائنٹ انفرادی تھیراپی کے سیشن سے گزرتے تو وہ بہتر ہونے کے بعد اپنے خاندان سے دور ہو جاتے تھے، اسی طرح اگر کسی کلائنٹ کو ایجوکیشنل سیٹنگ میں ایڈجسٹ کرنے کے لئے انفرادی تھیراپی دی جاتی تو وہ واپس اپنے خاندان میں سے جڑنے کے بعد انہیں مسائل کا شکار ہو جاتا جس سے نکلنے کے لئے وہ انفرادی تھیراپی لے چکا ہوتا۔ جب یہ نتائج سامنے آۓ تو دیکھا گیا کہ جہاں انفرادی تھیراپی کے مثبت اثرات تھے وہی اس کے منفی نتائج بھی شدید تھے۔ ان اثرات کو ختم کرنے کے لئے فیملی تھیراپی کو متعارف کروایا گیا۔ فیملی تھیراپی اس لئے بھی اہم تھی کہ وہ افراد یہ خاندانی تنازعات کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھے، ان کی شخصیت کو بحال کرنے اور ان کی تربیت کرنے کے میں یہ تھیراپی اہم کردار ادا کرتی تھی۔ اسی طرح بہت سے بچے جو نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، ان کے علاج کے ل...

بائیو سائیکوسوشل ماڈل آف ہیلتھ سائکالوجی Biopsychosocial model of health

  بائیو سائیکوسوشل ماڈل آف ہیلتھ سائکالوجی "   " بائیو سائیکوسوشل ماڈل کی تاریخ " بائیو سائیکوسوشل ماڈل حیاتیات، نفسیات اور سماجی اصولوں کو استعمال کرتے ہو ۓ بیماری اور صحت کے درمیان تعلق اور فرق کو بیان کرتا ہے۔ یہ ماڈل ان تین اہم فیکٹرز کے درمیان موجود تعامل کو استعمال کرتے ہو ۓ بتاتا ہے کہ بیماری کیوں اور کیسے ہوتی ہے اور یہ تین فیکٹرز کیسے بیماری یاں صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ ایک متحرک تعامل (dynamic interplay) نہ صرف بیماری کی تشخیص کرتا ہے بلکہ معالج کو یہ بھی بتاتا کہ کہ بیماری کا علاج کیسے ممکن ہے اور اس بیماری کے اثرات کیا کیا ہیں۔ یہ ماڈل پیشہ ور افراد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ کسی فرد کی ذہنی صحت کے بارے میں مزید وسیع معلومات کے لیے حیاتیات، نفسیات اور سماجی ماحول کے درمیان مختلف رابطوں پر غور کریں۔   "Founder of Model" یہ ماڈل 1977ء میں یونیورسٹی آف روچیسٹر (University of Rochester)   میں میڈیسن اور سائکاٹری کے مشہور پروفیسر "جارج اینجل "   (George Engel) نے پیش کیا۔ ڈاکٹر اینجل نے یہ ماڈل بائیومیڈیکل ماڈل کو مست...

خواب کی حقیقت

 سپنوں  کا  سنسار مذہب , نیورو سائنس اور سائیکالوجی کی روشنی میں  تحریر  : اسامہ رضا         وہ سوال جو  ہزاروں سالوں سے انسانی شعور کے دروازے پر مسلسل دستک دے رہا ہے جو صدیوں سے اہلِ فکر کیلئے معمہ رہا ہے ۔ یہ وہ پہیلی ہے جس کو  بڑے دانشوروں اور عظیم فلاسفرز نے سمجھنے میں اپنی  فکری قوتیں لگا دیں ۔ لیکن یہ گتھی آج بھی تقریباً اتنی ہی الجھی ہوئی ہے جتنی چند صدیاں پہلے تھی۔ مذہب نے بھی خوابوں کو ایک نئے رنگ سے پیش کیا تمام ادیانِ دہر کی خوابوں اور اسکی حقیقت کے بارے میں رائے جتنی ایک دوسرے سے مختلف ہے اتن ہی اس میں یگانگیت کا پہلو بھی مضمر ہے۔ یعنی تمام مذاہب خواب کی نسبت خدا کے ساتھ جوڑنے میں پیش پیش رہے ہیں ۔ موجودہ سائنیسی دور میں تغیر افکار کی منطقی و سائنسی فضاؤں میں ہم اس گتھی اور خوابوں کے عمل کو سمجھنے میں نیوروسائنس اور سائکالوجی کی مدد سے کامیاب تو رہے ہیں لیکن یہ کہنا کہ ہم نے اس گتھی کو سلجھا لیا ہے یا اس معمہ کا حل تلاش کر لیا ہے غیر سائنسی بیان ہوگا ۔ پہلے حصے میں مذہب کی خوابوں کے بارے میں رائے پیش کی گئی ہے ...

" Science behind kissing "

 " Science behind kissing "   چومنا اتنا دلفریب کیوں ہوتا ہے                             تحریر : اسامہ رضا  آغازِ الفت کی پرکیف وادی میں کسی شخص سے مانوس ہو کر اسکی صوت و صورت سے سامانِ راحت  کشید کرنا عشاق کا وتیرہ رہا ہے۔ عمومی طور پر ابتدائے عشق میں محبت کو پاکیزہ جذبات سے جوڑا جاتا ہے جس میں طبعی و شہوانی خواہشات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ  یہ رشتہ رؤح کی طمانیت سے منسلک سمجھا جاتا ھے۔ اور محب و محبوب ایک دوسرے کو دیکھ کر راحت و مسرت کے گھونٹ بڑھتے ہیں تو کبھی باہمی گفتگو سے فرطِ مسرت کو توانائی و تواتر بخشتے ہیں ۔ گویا ابتدائے عشق میں ایک دیوارِ تفاوت شہوات و چاہت کے درمیان حائل سمجھی جاتی ہے۔ شاید  ان  جذبات کو شعر میں  سمیٹ کر بیان کرنا مناسب   ہوگا ۔   دیکھ   لمسِ   لطافت    کا   انداز  کتنا  پاکیزہ ہے  نہیں عضوِ طبعی حائل  فقط آنکھوں سے چھونا ہے   لیکن جونہی صوت و صور...

سگمنڈ فرائیڈ -4 سائیکو سیکشول تھیوری

             سگمنڈ فرائیڈ                             تحریر : اسامہ رضا  ( ب ) Anal  شہوت خیز عضو : مقعدہ یا مبرز  مدت : ۱ تا ۳ سال  شخصیت کے نموئی مراحل کا دوسرا اہم مرحلہ Anal satge کہلاتا ہے۔ اس دور میں بچہ مبرز کے ذریعے فضلات کو خارج کرکے راحت و سکون حاصل کرتا ہے ۔  مبرز یا مقعدہ غذائی نالی کا آخری حصہ ہوتا ہے جو کے منہ سے شروع ہوتی ہے اور مبرز پر ختم ہوتی ہے ۔تقریباً دو سال کی عمر سے بچہ رفع حاجات کو ارادی طور پر سر انجام دیتا ہے اور اس پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے جبکہ اس سے قبل بچہ رفع حاجات کیلئے اپنے ماں باپ یا مربی کا محتاج ہوتا ہے۔ مبرز میں ہضم شدہ خوراک کے بعد بچنے والے فضلات جمع ہوتے ہیں جسے سے بڑی آنت کی دیواروں پر بوجھ پڑتا ہے ۔ بڑی آنت کے پیچھے کچھ والو ( valve)  کی طرح کے عضلات ہؤتے ہیں جسے عاصرہ مبرزی (  Anal Sphincters)  کہا جاتا ہے ۔ جب بڑی آنت پر ضرورت سے زیادہ بوجھ اور کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے تو یہ والو  ( Valve ) از خو...

The future of an Illusion

      مذہب سگمنڈ فرائیڈ کی نظر میں  نوٹ میں مسلمان ہوں لہذا فتویٰ سے پرہیز کیا جائے  سگمنڈ فرائیڈ نے ۱۹۲۷ میں ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا                    "The future of an Illusion" اس کتاب میں انہوں نے خدا کو انسانی عقل کا وہم اور مذہب کو فریب کا پلندہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں کسی بھی معاشرے میں مذہبی نظریات کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے اس لیے کے مذہب انسان کی جذباتی اور نفسیاتی ضرورتوں کو پورا کرنے کا سستا ترین ذریعہ ہوتا ہے انسان جس بھی معاشرے میں پرورش پاتا ہے وہاں کا مذہب اس کو وراثت میں مل جاتا ہے دنیا کے زیادہ تر انسان اسی مذہب پے زندہ رہتے ہیں جس میں وہ پیدا ہوتے ہیں جو کے سرا سر عقل کے خلاف بات ہے وہ ایک جگہ پے لکھتے ہیں  " Psychologically speaking, these beliefs present the phenomena of wish fulfillment, "fulfillments of the oldest, strongest, and most urgent wishes of mankind." (Ch. 6 pg.38). "نفسیاتی طور پر ، یہ عقائد خواہش کی تکمیل کے مظاہر کو پیش کرتے ہیں ،" بنی نوع انسان کی سب سے قدیم ، مضب...