زندگی کیا ہے ؟ زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ حیات کی تخلیق کے محرکات کیا ہیں ؟ زندگی کو کیوں وجود ملا یا کیوں بنائی گئ ؟ تاریخِ انسانی کا سارا لٹریچر چاہے وہ سائنسی و فلسفیانہ نوعیت کا ہو یا مذہبی نوعیت کا , ان سوالات کا تشفی و تسلی بخش جواب دینے سے نہ جانے کیوں قاصر رہا ہے ؟
اس بحث کو چھیڑے بغیر اگر ہم اس بات پر غور کریں کے کامیاب زندگی کیا ہے ؟ کیا زندگیوں کو کامیاب بنانے کیلئے خوشیوں کا ہونا لازمی ہے ؟ کیا خوشیوں اور آسائشوں کی تمنا کرنا اور پھر انکے حصول کیلئے اپنی ساری زندگی لگا دینا زندگیوں کو کامیاب بناتا ہے ؟
کیا کار کوٹھیاں , دنیا کی مادی آسائشیں ہماری زندگیوں کو خوشیاں فراہم کرتی ہیں ؟ کیا دنیا کے امیر ترین انسان اپنی زندگیوں میں خالی پن کا شکار نہیں ہیں ؟ اگر نہیں ہیں تو دنیا میں ہونے والے سریویز کا ڈیٹا ہمیں یہ کیوں بتاتا ہے کے خودکشیاں کرنے والے اور ڈپریشن میں مبتلاء لوگوں کی بڑی تعداد کا تعلق امیر و کبیر خاندانوں سے ہے ؟ یعنی اسکا آسان معنیٰ کیا یہ ہوا کے مادی آسائیشیں اور دنیاوی تصنع ہمارے اندر کے خالی پن کو نہیں بھر سکتا ؟
تو پھر وہ کیا چیز ہے جو انسانی زندگی کو خوبصورت و با رونق بنانے کے ساتھ ساتھ انسان کو حقیقی خوشی فراہم کرتی ہے ؟
کیا خوشیوں کا تعاقب اور بار بار خوشیوں کو پانے کی سعی ہی ہماری زندگیوں میں ڈپریشن و پریشانیوں کی بڑی وجہ تو نہیں ؟
اگر ایسا ہے تو ہم ہمیشہ خوشیوں کی تلاش میں ہی کیوں مارے مارے پھرتے ہیں ؟ کیا خدا کی ذات سے جڑنے کا مقصد بھی خوشیوں و سکون کے حصول کا مقصد نہیں ہوتا ہے ؟ تو کیا انسان اتنا مطلبی ہے کے ذاتِ خداوندی سے رجوع بھی لالچ و طمع کے تجت کرتا ہے ؟ کیوں مذاہب میں بھی انسانوں کو خلدِ بریں کا لالچ دیا جاتا ھے ؟ کیا فطرتِ انسانی میں جبلتوں کا ملغوبہ بھی خوشیوں و راحتوں کا مطلوب ہوتا ھے ؟ کیا مذاہب ہماری فطرت کا ہی عکس تو نہیں جس میں ہمیں ہر لمحہ خوشیوں و راحتوں کی طلب رہتی ہے ؟ سو اگر خوشیوں کا تعاقب انسان کی فطرت کا تقاضا ہے تو پھر خوشیوں کے وصول کے باوجود بھی اندر کا خالی پن کیونکر برقرار رہتاہے ؟ اور سکون کی دولت آخر کیوں میسر نہیں ہوتی ؟
کیا کامیاب و کامل زندگی کا خوشیوں کے تعاقب کے سوا بھی کوئی کلیہ ہے ؟ مایوسیوں سے مبرا بھی زندگی جینے کا کوئی طریقہ ہے ؟
اگر ھم زندگی زندگی میں خوشیوں کو مرکز بنانے کی بجائے کسی مقصد و معنی کو زندگی کا مقصد بنا لیں تو ؟
گویا اگر ہم زندگی کو با معنی بنالیں تو ؟ کیا آپ جانتے ہیں جن لوگوں کی زندگیاں بامعنی ہوتیں ہیں اور ذہن کے اندر مقاصد کی طلب ہوتی ھے وہ لوگ زیادہ قوتِ برداشت رکھتے ہیں ؟ آپ نے اپنے اردگرد , کالج سکولز اور مخلتف اداروں میں کیا ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جو اعلیٰ ظرف کے مالک ہوتے ہیں ؟ کیا اپنے معاشرے میں ایسے لوگوں کو آپ نے نہیں دیکھا جو اپنے آپکو ایموشنل کرنے کی بجائے منطقی ردِ عمل سے ییش آتے ہیں ؟ یہ لوگ ایسے کیوں ہؤتے ہیں ؟ آپکؤ کیا لگتا ہے یہ ایموشنل پرسنیلٹیز ہوتی ہیں جنہیں صرف خوشیوں کی تلاش ہوتی ہے ؟ یا پھر یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگیوں کو معنی دے چکے ہوتے ہیں ؟ اس لیے کیا خوشیوں کی تلاش میں اپنی زندگیوں کو اجیرن بنانے کا کوئی فائدہ ہے ؟
اب آپ خود ہی سوچیئے کیا ایسا ممکن ہے کے انسان کو ہر وقت خوشیاں میسر ہوں ؟ کیا آپ کے بہت ہی گہرے ساتھی آپکو مایوس نہیں کرجاتے ؟ کیا زندگی کے حالات و معاملات آپکو زیادہ پریشانیوں کا مال فراہم کرتے ہیں یا خوشیوں کا ؟ اور اگر خوشیوں کے تعاقب کے باوجود آپکو خوشیاں نہیں ملیں تو ۔ ؟ کیا آپ ڈپریشن یا پریشانی کا شکار نہیں ہوجائیں گئے ؟ آپکی زندگی خالی خالی ہونے لگی تو ؟ خوشیوں کی تلاش میں اگر زندگی نے معنی کھو دیے ۔ ؟ قہقہوں کے اندر اگر صرف درد ہی درد پنہاں رہ گیا تو ؟ اگر یہی بات اگر آپکو غالب کی زبان میں سمجھاؤں تو کیسا رہے گا؟
قیدِ حیات و بند ِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں ؟
سو حل کیا ہے ؟ اس ساری گفتگو کا معنیٰ کیا یہ ہوا کے ہمیں اپنی زندگیوں کو خوشیوں کی تلاش کی بجائے بامعنی بنانا چاہیے ؟
Comments
Post a Comment