Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2021

شوق، ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

  غالب فہمی   غزل:5   شارح : اسامہ رضا     شوق، ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا   زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یا رب تیر بھی سینہ بسمل سے پر افشاں نکلا   بوئے گل، نالہ دل دودِ چراغ محفل جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا   دل حسرت زدہ تھا مائدئہ لذتِ درد کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا   اے نو آموز ہمت، دشوار پسند سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا   دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالب آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا   ____________________________________________________________________________________________________   شوق، ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا   لغات ___ شوق : عشق   رقیب: دشمن قیس : مجنوں کا نام     شرح __ عشق  سروسامان اور مادی آسائشوں اور ضرورتوں  کا دشمن  ہوتا ہے ۔ اس لیے غالب کہتے ہیں کے یہی وجہ ہے کے تصویر میں بھی قیس کو عریاں کھینچا گیا ...

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار

 غالب فہمی  غزل_2  شارح : اسامہ رضا  جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار  صحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا  آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست  ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا  تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ  جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا   لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز  لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا  لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبقِ ہنوز  لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا  ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی  میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا  تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ  سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا  -------------------------------------------------------------------------------- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار  صحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا  لغات ___  قیس : مجنوں کا نام (قیس کو مجنوں کا لقب لیلیٰ عامریہ سے محبت کی وجہ سے ملا قیس و لیلیٰ کا بچپن ساتھ میں گزرا اور مجنوں لیلیٰ کی محبت میں گرفتار ہوگیا اور  صحرا نوردی کرتے شام ٫ نجد و حجاز میں پایا گیا  ) بروئے ...

دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا

 غالب فہمی  غزل : 4  شارح : اسامہ رضا  دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا آتشِ خاموش کی مانند، گویا جل گیا دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا عرض کیجئے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟ کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار اِس چراغاں کا کروں کیا، کار فرما جل گیا میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالبؔ! کہ دل دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا ___________________________________________________________________________ دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا آتشِ خاموش کی مانند، گویا جل گیا لغات____ سوزِ نہاں : اندرونی سوز , چھپی ہوئی تکلیف  بے محابا : بے تکلف , بے دھڑک  آتش ِ خاموش : ایسی آتش جو نظر سے اوجھل رہے , دبی ہوئی آگ  شرح_____ غالب کا کمال یہ ہے کے بڑے بڑے نفسیاتی نکتے بھی اپنے کمالِ وجدان سے شعروں میں باندھتے ہیں کے عام فہم اذہان یا تو اسکو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اگر سمجھیں بھی تو عموماً...

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

 غالب فہمی  غزل:3  شارح : اسامہ رضا  کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی دردِ بے دوا پایا دوست دارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا  __________________________________________________ کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا لغات___  مدعا پایا : یعنی ہم تمہارا مقصد یا بات سمجھ گئے ہیں  شرح___ شعر سادہ لیکن پر لطف ہے ۔ گویا اگر ہمیں تمہارا دل مل گیا تو ہم واپس نہیں کریں گئے۔ اسکا معنی تو یہ ہوا کے دل تمہارے ہی پاس ہے تم فقط ہمیں چھیڑنے اور تنگ کرنے کی غرض سے ایسے کہہ رہے ہو کے گر ہمیں دل مل گیا تو واپس نہیں کیا جائے گا ۔  عموماً یہ ش...

سمیری تہذیب پر آفت _از قلم اسامہ رضا

 رودادِ وباء  تحریر :اسامہ رضا  قسط ۔ ۱  سمیری تہذیب پر آفت   شجر ِ حیات کی ٹہنی سے ارتقاء و ارتفاع کی منازل طے کرکے متفرع تشکیل پانے  والا انسان اس دھرتی کی تنہا مخلوق نہیں تھا اسی زمین پر ارتقاء کی رنگینیوں نے کڑوڑوں انواع و اقسام کی مخلوقات کو وجود بخشا تھا ۔ ان میں لاکھوں ہزاروں مخلوقات ایسی تھیں جن سے اگر روشنی ٹکڑا کے آنکھ میں جاتی بھی تو دماغ کوئی تصویر بنانے سے قاصر رہ جاتا ۔ انسانوں کے وجود اپنی مبتدا سے ہی ہزاروں فطرتی آزمائشوں کا سامنا کرنا تھا۔ کبھی اسے جنگلی و خونخوار جانوروں کے شکم کا جز بننے سے خود کو محفوظ رکھنا تھا تو کہیں کچھ جنگلی جانوروں کو مار کر ان سے اپنے شکم کی آگ کو رفع کرنا تھا۔ کبھی اسے موسمی تغیرات سے اپنی بقاء کی جنگ لڑنی تھی کبھی فی زمانہ پتھروں سے لیکر دھاتوں کے استعمال کی فنکاری کا مظاہرہ کرنا تھا۔ کبھی اسے برفانی دور کا مقابلہ کرکے اپنی ہستی کو قائم رکھنے کیلیئے شعور کی تنوع و تحریک کی ضرورت پیش آئی کبھی اسے پتھروں اور دھاتوں سے ہتھیاروں کی توجید کی حاجت پیش آئی اور کبھی اسے رگڑ کی قوت سے آتش بنانے اور پھر اسے بھڑکانے ک...

تنقید کے اصول

 تنقید کیا ہے تنقید کے چند اصول [PDF] اصول تنقید سے مراد ادبی تنقید ہے۔ فن پارے کو دو پہلوؤں سے دیکھا اور پر کھا جا تا ہے۔( ۱ )اس میں کیا پیش کیا گیا ہے۔ ( ۲ ) کس طرح پیش کیا گیا ہے۔اس کیا اور کیسے ؟ کے لیے ہماری تنقید میں دو نام موجود ہیں۔ مواد اور بیت، فن پارے کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے نقادانہیں الگ الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ ادبی تنقید کا پہلا کام یہ دیکھنا ہے کہ فن پارے میں جو تجز یہ پیش کیا گیا ہے یا جو جذ بہ یا خیال پیش کیا ہے اس کی کیا اہمیت ہے۔ادبی تنقید کا اگلا قدم یہ دیکھنا ہے کہ فنکار اپنے تجربے کو موثرانداز میں پیش کر سکا ہے یا نہیں۔ ادبی تنقید کا مقصد ایسے اصولوں اور زادیوں کو مدون کر ناہو تا ہے جن کی مدد سے ادبی نگارشات کے حسن و قتح کے در جات متعین کئے جاسکیں۔ یہ اس معرفت اور بصیرت کا نام ہے جس کی بنیاد پر شعر وادب کی تفسیر وتفہیم قائم ہوتی ہے ۔ادبی تنقید فن کار کے فکری ارتقاء کا سراغ لگاتے ہوۓ ادب پارے کے محاسن و مصائب کا تجز یہ کرتی ہے ان کے مقام ومر تبہ کا تعین کرتی ہے جس کے لیے نقاد فنکار کی سوانح، ذہنی ساخت اور افتاد مزاج سے واقفیت حاصل کر تا ہے۔ کہ فنکار نے کس ماح...