[9:01 PM, 7/12/2021] Osama Raxa: #نفسیات
نفسیاتی امراض کی تاریخ
قسط : 3۰4
قدیم یونان کے ہاں نفسیاتی امراض کا تصور
تحریر : اسامہ رضا
اہلِ یونان کے ہاں ذہنی امراض کے اسباب کو مافوق الفطرت قوتوں میں تلاش کرنے کا رواج تھا۔ پاگل پن اور نفسیاتی مریضوں کو عبادت کدوں میں علاج کی غرض سے لایا جاتا تھا ۔
البتہ یونانی دانشوروں اور فلاسفروں کے ہاں ذہنی بیماریوں کو جسمانی علتوں میں کھوجنے کا تصور بھی قائم تھا ۔ ذہنی امراض کو جسمانی بیماریوں کی طرح بیماری تصور کرنے کا عام تصور باوا طب بقراط کی بدولت ممکن ہوسکا ۔
بقراط کے مطابق جسم بنیادی طور پر چار خلطوں کی تشکیل سے ہے۔
خون Blood
بلغم Phlegm
پیلے پت Yellow bile
سیاہ پت Black bile
ان چار مفروض رطوبتوں میں جونہی تغیرات سے انکا توازن بگڑتا ہے تو انسان بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا چاہے وہ پھر نفسیاتی امراض ہوں یا جسمانی امراض ۔ امامِ طب بقراط نے نفسیاتی عارضوں کو چار اقسام میں منقسم کیا
Epilepsy
Mania
Melancholia
Brain fever
جبکہ ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے ان چار مفروض رطوبتوں کا توازن قائم کرنے کی سعی کی جاتی مثلاً خون کے اخراج کے ذریعے , آرام و سکون تجویز کرنا , ماحول کو تبدیل کرنا , اور غذا کو تبدیل کرنے جیسے عوامل سے ذہنی بیماریوں سے نبٹنے کی کوشش کی جاتی تھی۔بقراط کا خیال تھا ذہنی الجھنوں کے طلاطم میں پھنسے ذہنی مریض کو اس کے خاندان سے الگ کر کے مریض کی نفسیاتی الجھنوں کو کم و رفع کیا جاسکتا ہے۔ حتیٰ کے گفت و شنید جیسی تھیراپیز کے ذریعے بھی ذہنی الجھنوں کو رفع کرنے کا امر سر انجام دیا جاتا تھا۔
برکیف اہلِ یونان ذہنی مریضوں سے بہت خوفزدہ ہوتے تھے یونانی پاگل پن کا شکار لوگوں سے زیادہ تر ہاتھ اٹھا لیے جاتے تھے اور اگر پاگل پن کا شکار لوگ شدت پسندانہ رویے کی طرف مائل ہوجاتے تو اس صورت میں انکو قید و بند کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑتا تھا ۔ اور کچھ ایسے بھی واقعات تاریخ کا حصہ ہیں جس میں ایسے مریضوں کو ہجوم بدروحوں کا ٹھکانہ سمجھتے ہوئے ماردیتے تھے ۔
Comments
Post a Comment