غالب فہمی
غزل : 4
شارح : اسامہ رضا
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کی مانند، گویا جل گیا
دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
عرض کیجئے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا
دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار
اِس چراغاں کا کروں کیا، کار فرما جل گیا
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالبؔ! کہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا
___________________________________________________________________________
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کی مانند، گویا جل گیا
لغات____
سوزِ نہاں : اندرونی سوز , چھپی ہوئی تکلیف
بے محابا : بے تکلف , بے دھڑک
آتش ِ خاموش : ایسی آتش جو نظر سے اوجھل رہے , دبی ہوئی آگ
شرح_____
غالب کا کمال یہ ہے کے بڑے بڑے نفسیاتی نکتے بھی اپنے کمالِ وجدان سے شعروں میں باندھتے ہیں کے عام فہم اذہان یا تو اسکو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اگر سمجھیں بھی تو عموماً اسکا سطحی سا معنی سمجھ پاتے ہیں ۔
ذرا اس شعر پر غور کیجیے کے غالب نے کس خوبصورتی کے ساتھ اندرونی خلشوں اور بھڑکتے جذبات و احساسات کو آگ سے تشبیہ دی ہے کے انسان کے اندر مایوسی و وحشت چاہے وہ ناکامی عشق کے باعث ہو یا زندگی کے دیگر گوناگوں معاملات کی وجہ سے وہ ایک خاموش آگ کی حیثیت رکھتی ہے اور انسان کے دل کو اندر سے جلا کر رکھ دیتی ہے۔ یہاں دل کو جلانے سے مراد یہ ہے کے انسان کے اندر جب مایوس کن اور ناامیدی جیسے خیالات اور وحشت و تکالیف انسان کے دل کو جلا دیتی ہیں یعنی وہ ایک ناکامی کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ بیٹھتا ہے اور مکمل ناامید ہوجاتا ہے اسکے اندر طلب اور امیدوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ یہی چیز ہمیں ناکام عشاق میں ملتی ہے کسی ایک شخص سے مایوس ہونے کے بعد انکا دل دنیا کی رنگینیوں سے بھی مایوس ہوجاتا ہے۔
اس شعر کے اندر بے محابا لفظ عشق کی طرف اشارہ کرتا ہے چونکہ بے دھڑک ہوکر جلنا اور جانتے بوجھتے ہوئے جلنے کے مترادف ہے گویا انسان عشق کی آگ میں جھلسنا پسند کرتا ہے بجائے اسکے وہ ترکِ عشق کا بھار اٹھائے۔
دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
شرح_____
اس شعر میں بھی اوپر بیان کردہ مضمون ہی کو ہی بیان کیا گیا ہے۔ کے جب انسان مایوس ہوجاتا تو پھر ہر طرح کی خوشیوں کی خواہش بھی وادی متروک میں غرق ہوجاتی ہے۔
شعر کی خوبصورتی یہ ہے کے جیسے اگر کسی گھر کو آگ لگے تو کچھ نہیں بچتا بس یہی حال دل میں بھی ہوتا ہے اگر دل آتشِ خاموش کی لپیٹ میں آ جائے تو اسکے اندر ہر قسم کی خواہشات بھسم ہوجاتی ہیں۔
میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
لغات _____
عنقا : ایک خیالی پرندہ جو وجود نہیں رکھتا۔
آہِ آتشیں: ایسی آہ جو آتش کا یعنی جلانے کا ہنر رکھتی ہو
شرح_______
شعر میں لطیف نکتہ یہ ہے کے چونکہ عنقا ایسا پرندہ ہے جو عالمِ موجود میں تو وجود نہیں رکھتا لہذٰا اسکا مکاں عدم ہوا ۔ اس کو دلیل بناتے ہوئے غالب کہتے ہیں کے غافل میں تو عدم سے بھی آگئے نکل آیا ہوں کیونکہ جب کبھی میں عالمِ عدم میں تھا میری آہ سے کئی مرتبہ عنقا کے بال جل جاتے تھے ۔
غالب نے ہمیشہ اس مادی دنیا پر تشکیک کا اظہار کیا ہے یہی وجہ ہے کے غالب خود کو اس دنیا سے توڑ کر حقیقی دنیا کا علم رکھنے والے شخص کے طور پر پیش کرتے نظر آتے ہیں شعر ملاحظہ ہو
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگئے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگئے
اس شعر کے متعلق یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کے غالب نے اپنے روحانی استاد بیدل کا مضمون اپنے انداز میں اس شعر میں باندھا ہے ۔
ہمچو عنقا بے نیازِ عرضِ ایجاد یم ما
یعنی آں سُوئے عدم یک عالم آباد یم ما
شعر کا مفہوم یہ ہے کے ہم عنقا کی مانند اپنے وجود کو اظہار کرنے سے بے نیاز و بے پروا ہیں ۔گویا ہم عدم سے بھی آگئے ہیں اور خود ایک عالم کی مانند ہیں ۔
عرض کیجئے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا
جوہرِ اندیشہ :خطرے کو بھانپنے کی قوت
گرمی ؛ یہاں گرمی سے مراد سرعت ہے یعنی برق رفتاری
شرح_____ غالب نے اس شعر میں ایک انتہائی دلچسپ نکتہ باندھا ہے اکثر ہمیں کسی چیز کا اندیشہ ہو یا خطرہ لاحق ہورہا ہو کے کہیں ایسا نہ ہو جائے تو اکثر و بیشتر ہمارا ڈر صحیح ثابت ہوجاتا ہے۔ غالب کا بیانیہ یہ ہے کے در حقیقت یہ جوہرِ اندیشہ کی کمالِ رفتار ہے کے ہم یہاں ابھی خطرے کا خیال کرتے ہیں اور پتا چلتا ہے کے وہی ہوگیا ہے۔القصہ مختصر جس چیز کو ہم چھٹی حس سے موسوم کرتے ہیں اسی چیز کا ذکر غالب نے مثال سے کیا ہے ۔ کے ادھر خیال آیا تھا کے وحشت میں صحرا گردی کی جائے تو اتنی دیر میں صحرا جل گیا یعنی مزید آگ بگولہ ہوگیا ۔
دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار
اِس چراغاں کا کروں کیا، کار فرما جل گیا
چراغاں : یہاں چراغاں کو ایک مخصوص تناظر میں استعمال کیا گیا ہے ۔ جس کو زمانہ سلف میں ایک سزا کے طور پر جانا جاتا تھا سزا کا طریق یہ تھا کے مجرموں کے سر میں گہرے زخم کرکے ان میں چراغ جلائے جاتے تھے اور یوں چراغاں کی جاتی تھی ۔
شرح____ غالب کہتے ہیں کے میرے پاس دل ہی نہیں رہا ورنہ میں تمہیں داغوں کی بہار دکھاتا کے کس طرح دل پر لگنے والے داغ یعنی زخموں میں سے روشنی مانندِ چراغ پھوٹتی ہے ۔ اور اس چراغاں سے اسکا تقابلی مشاہدہ کرواتا کے کیا زیادہ اذیت ناک لیکن میرا کارفرما یعنی ان چراغوں کو روشن کرنے والا دل از خود ہی جل گیا ہے۔ ایک اور شعر میں غالب اسی مضمون کو باندھتے ہیں۔
دکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغِ دل اک تخم ہے سروِ چراغاں کا
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالبؔ! کہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا
لغات_____
افسردگی: مایوسی, دل کا بجھ جانا , پریشان ہونا
طرزِ تپاک : گرمجوشی کا طریقہ یعنی گرمجوشی کا تصنع
شرح_____ غالب کہتے ہیں کے اس دنیا کی ریکاری اور منافقانہ تپاک کے باعث میرا دل جل گیا ہے ۔ اور اب صرف افسردگی کی آرزو باقی ہے ۔
Comments
Post a Comment