Skip to main content

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

 غالب فہمی 

غزل:3 

شارح : اسامہ رضا 



کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا


عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی دردِ بے دوا پایا


دوست دارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم

آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا


سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری

حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا


غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل

خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا


حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی

ہم نے بار ہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا


شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا

آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا 



__________________________________________________



کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا


لغات___ 

مدعا پایا : یعنی ہم تمہارا مقصد یا بات سمجھ گئے ہیں 


شرح___

شعر سادہ لیکن پر لطف ہے ۔ گویا اگر ہمیں تمہارا دل مل گیا تو ہم واپس نہیں کریں گئے۔ اسکا معنی تو یہ ہوا کے دل تمہارے ہی پاس ہے تم فقط ہمیں چھیڑنے اور تنگ کرنے کی غرض سے ایسے کہہ رہے ہو کے گر ہمیں دل مل گیا تو واپس نہیں کیا جائے گا ۔ 


عموماً یہ شرارتی تکلم قریبی دوستوں میں دیکھنے کو ملتا ہے گر دوست کی کوئی چیز گم ہو جائے اور وہ دوسرے دوست کو مل جائے تو وہ کہتا ہے کے اگر مجھے چیز مل بھی گئ تو واپس نہیں کروں گا۔



عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا 

درد کی دوا  پائی  دردِ  بے دوا پایا 


لغات____

زیست : زندگی 

دردِ بے دوا : ناقابلِ علاج درد 


شرح_____ شعر کا معنی یہ ہے کے زندگی یوں تو غموں اور تکلیفوں کا باعث ہے ہی لیکن عشق کی آمد سے انسان زندگی کو قبول کرنے لگ جاتا ہے اسکو وصال و یاد کے لمحوں میں لطف اور زندگی کا مزا آنے لگ جاتا ہے ۔ لیکن غالب کہتے ہیں اگرچہ عشق نے زندگی میں رنگ بھر دیے لیکن یہ عشق بذاتِ خود ایک ایسا دردِ بے دوا ہے کے زندگی بلاآخر پھر انہیں غموں اور تکلیفوں کی نذر ہوگئی ہے۔ القصہ مختصر زندگی با ہر صورت دکھ ہے۔ اسی نکتے کو غالب ایک اور شعر میں کھول کے بیان کرتے ہیں ۔


غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے 

غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا 


جبکہ ایک اور جگہ غالب نے عشق کی بے رحمانہ تاثیر کا نقشہ یوں کھینچا ہے 


عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب 

کے لگائے  نہ لگے اور بجھائے نہ بنے



دوست دار دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم 

آہ بے  اثر  دیکھی  نالہ  نارسا پایا


شرح___

غالب نے اس شعر میں انتہائی خوبصورت انداز میں اپنے نالے اور آہ و فغاں کے بے اثر ہونے کی منطق کو قلمبند کیا ہے ۔


گویا غالب یہ کہنا چاہتے ہیں دوست دار دشمن یعنی یہ جو میرا دل ہے یہ میرے دشمن کا دوست ہے یعنی دل تو گویا محبوب کا ہے ( یہاں دشمن کو محبوب کے معنوں میں لیا گیا ہے ) اور اسکو اعتماد مجھ سے زیادہ میرے محبوب پہ ہے لہذٰا میرا دل جس کو آہ و پکار کرنی ہے تڑپ کر پکار کرنی ہے اسکی آہ و فغاں اس لیے بے اثر جاتی ہیں کے وہ میرے محبوب کی طرف داری کرتا ہے میری طرف داری نہیں کرتا بس اسی لیے میرے نالے آہ و فغاں نارسا یعنی بے اثر ہیں۔


سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری

حسن کو تغافل میں جرات آزما پایا 


شرح_______


اس شعر میں حسین لوگوں کی سادگی و معصومیت کو ہشیاری و عیاری بتایا گیا ہے۔ غالب کہتے ہیں عشاق کو نظر انداز کرنا حسین لوگوں کی سادگی نہیں بلکہ ہشیاری ہوتی ہے ۔ 


اور اہلِ حسن کے ہاں یہ فن ہے کے وہ سادگی کے تصنع میں غفلت برتتے ہیں اور اسکو معصومیت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسی تغافل کے نکتے کو غالب ایک اور جگہ بیان کرتے ہیں۔ 


آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہونے تک 

کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک 


یعنی جب تک تیرے حسن کا سرور خمار کے مراحل سے گزر کر اترے گا ۔تب تک ہماری زندگی کی کیا ضمانت ہے ۔


غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل 

خوں کیا ہوا دیکھا , گم کیا ہوا پایا 


شرح _______

غنچہ چونکہ رنگ میں سرخ ہوتا ہے غالب کہتے ہیں کے کھلتے پھول کو دیکھ کر مجھے اپنا دل یاد آجاتا ہے جس کا خون عشق کے ہاتھوں ہوگیا ہے اور اتنا ہی نہیں اب یہ ہمارے پاس بھی نہیں ہم سے گم چکا  ہے یعنی دل پر اب ہمارا اختیار نہیں رہا ۔ 


حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر , یعنی 

ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا 


شرح_____ ہمیں ہمارے دل کی کوئی خبر نہیں وہ کس حال میں ہے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کے یہ ہمارے پاس  اب نہیں رہا گویا یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اس پر سارے اختیارات تمہارے ہیں لہذٰا ہم نے بارہا کوشش کی کے اس پر اپنی مرضی چلائیں لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اس پر اب صرف تمہارا اختیار  ہے یہ چیز ہم نے بارہا دیکھی ہے۔


شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا 

آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا 


لغات___شورِ پندِ ناصح : ناصح کی گرم جوش نصیحتیں


شرح_____ گویا ناصح کی باتوں نے جب جب اس نے مجھے سمجھانے کی سعی اسکی باتوں نے میرے زخموں پر مرہم کی بجائے نمک کا کام کیا اور میں مزید اذیتوں میں گرفتار ہوگیا۔کوئی ناصح سے پوچھو کے تمہیں کیا ملا یہ سب کرکے ۔؟  تمہیں ان سب نصیحتوں سے کیا فائدہ ہوا الٹا میری اذیت دگنا ہوگئ۔ 


شارح : اسامہ رضا

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...