Skip to main content

سمیری تہذیب پر آفت _از قلم اسامہ رضا

 رودادِ وباء 

تحریر :اسامہ رضا 

قسط ۔ ۱ 

سمیری تہذیب پر آفت  


شجر ِ حیات کی ٹہنی سے ارتقاء و ارتفاع کی منازل طے کرکے متفرع تشکیل پانے  والا انسان اس دھرتی کی تنہا مخلوق نہیں تھا اسی زمین پر ارتقاء کی رنگینیوں نے کڑوڑوں انواع و اقسام کی مخلوقات کو وجود بخشا تھا ۔ ان میں لاکھوں ہزاروں مخلوقات ایسی تھیں جن سے اگر روشنی ٹکڑا کے آنکھ میں جاتی بھی تو دماغ کوئی تصویر بنانے سے قاصر رہ جاتا ۔ انسانوں کے وجود اپنی مبتدا سے ہی ہزاروں فطرتی آزمائشوں کا سامنا کرنا تھا۔ کبھی اسے جنگلی و خونخوار جانوروں کے شکم کا جز بننے سے خود کو محفوظ رکھنا تھا تو کہیں کچھ جنگلی جانوروں کو مار کر ان سے اپنے شکم کی آگ کو رفع کرنا تھا۔ کبھی اسے موسمی تغیرات سے اپنی بقاء کی جنگ لڑنی تھی کبھی فی زمانہ پتھروں سے لیکر دھاتوں کے استعمال کی فنکاری کا مظاہرہ کرنا تھا۔ کبھی اسے برفانی دور کا مقابلہ کرکے اپنی ہستی کو قائم رکھنے کیلیئے شعور کی تنوع و تحریک کی ضرورت پیش آئی کبھی اسے پتھروں اور دھاتوں سے ہتھیاروں کی توجید کی حاجت پیش آئی اور کبھی اسے رگڑ کی قوت سے آتش بنانے اور پھر اسے بھڑکانے کی سعادت پیش آئی اور کبھی اس نے زمین کو فصلوں کی شکل میں ڈھال کے زراعت کے انقلاب کے ساتھ نت نئ تہذیبوں کو وجود بخشا۔ اس  بقاء کی جدوجہد نے انسانوں کو تہذیبوں اور معاشروں میں باہمی مفاد اور حفاظت کے طور پر باندھ تو دیا لیکن ابھی انسان کی بقاء کی جنگ ختم نہیں ہوئی تھی۔

مغربی ایشیا میں ٹگرس اور یوفریٹس دریاؤں کے پاس انسانوں کی ایک بڑی آبادی اپنی زندگی گزار رہی تھی جی ہاں یہ قدیم تہذیب سمیری ہی تھی جو میسپوٹومیہ کے علاقے پر اپنے شب و روز بسر کر رہی تھی  ( موجودہ  عراق  , شام اور جنوب  مشرقی ترکی کا علآقہ )

سنسکرت کے ریکارڈ کے مطابق اس بستی کو ایک بیماری نے آگھیرا جس سے اس کی ایک بڑی تعداد موت کے گھاٹ اترتی گئ ۔ شواہد کی قلت اور اور کسی متفقہ حوالے جات کی کمی کے باعث اس وباء کو تاریخ کی پہلی وباء کا درجہ حاصل ہے جس نے انسانی آبادی ایک تھوڑے وقت میں متاثر کرکے ایپی ڈیمک ( Epidemic)  کی صورت اختیار کرلی قدیم تاریخ سے اس بیماری کے متعلق نہ ہونے کے برابر معلومات ملتی ہیں لیکن اس بیماری کی مماثلت کسی فلو سے تھی اور اسے زیادہ لوگ Influenza epidemic تصور کرتے ہیں جس نے انسانوں کی آبادی کو بری طرح نشانہ بنایا ۔

سنسکرت کو دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں سے تصور کیا جاتا ہے اور کئ زبانوں کے الفاظ سنسکرت زبان سے ہی ماخوذ ہیں ۔ اسی طرح سنسکرت جسے ہندو خداؤں کی زبان مانتے ہیں اس میں " PLU "  کا معنی ہوتا ھے کسی چیز کا بہنا اسی طرح یونانی لفظ "  PHELO "  کا معنیٰ بھی To flow ہے اور اطالوی زبان میں Influo کے معنی بھی یہی ہیں اس لیے سنسکرت زباندان ان تمام الفاظ کا ماخذ سنسکرت زبان کے لفظ PLU کو مانتے ہیں ۔ اور بارہ سو قبلِ مسیح میں قدیم ترین سمیری تہذیب کے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی خطرناک وباء کو سنسکرت نے plu کا نام دیا تھا  


حوالہ جات : 

THE FLU”

 

A BRIEF HISTORY OF INFLUENZA IN  U.  S . AMERICA

EUROPE

HAWAII


https://en.m.wikipedia.org/wiki/List_of_epidemics

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...