Skip to main content

شوق، ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

 غالب فہمی 

غزل:5 

شارح : اسامہ رضا 

 

شوق، ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

 

زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یا رب

تیر بھی سینہ بسمل سے پر افشاں نکلا

 

بوئے گل، نالہ دل دودِ چراغ محفل

جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

 

دل حسرت زدہ تھا مائدئہ لذتِ درد

کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا

 

اے نو آموز ہمت، دشوار پسند

سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

 

دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالب

آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا

 

____________________________________________________________________________________________________

 

شوق، ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

 

لغات___

شوق : عشق 

رقیب: دشمن

قیس : مجنوں کا نام 

 

شرح__

عشق  سروسامان اور مادی آسائشوں اور ضرورتوں  کا دشمن  ہوتا ہے ۔ اس لیے غالب کہتے ہیں کے یہی وجہ ہے کے تصویر میں بھی قیس کو عریاں کھینچا گیا ہے۔ 

 

شعر کا جمالیاتی حسن لفظوں کی مناسبت میں پنہاں ہے ۔ رنگ و تصویر جبکہ دوسری طرف پردے اور عریاں ہونا۔ یہاں لطیف نکتہ یہ ہے کے تصویر چونکہ رنگوں سے تشکیل پاتی ہے غالب کہتے ہیں کے دیکھوں عشق کس قدر سروسامان کا دشمن ہے کے تصویر کی رنگینی بھی قیس کی عریانی کو ڈھانپ نہیں سکی ۔ 

 

 

زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یارب 

تیر بھی سینہ بسمل سے پر افشاں نکلا 

 

لغات__

پرافشاں: چونکہ تیر کی نوک کے دونوں جانب پر لگے ہوتے ہیں  اس لیے جب تیر دل سے نکلا تو پر جھاڑتا ہوا نکلا 

 

داد نہ دی : کوئی فرق نہیں لا سکا 

 

شرح____ غالب کہتے ہیں کے تیر بھی میرے دل کی تنگی کو فراخی و کشادگی عطا نہیں کرسکا ۔ گویا تیر سے ہونا والا زخم اس قدر بھی نہیں تھا کے میری تنگی دل کو مٹا سکتا یہ تو اپنے پر جھاڑتے ہوئے بسمل کے سینے سے باہر نکل گیا ۔ پر جھاڑنا یہاں تنگی دل کی مناسبت سے آیا ہے۔

 

 

بوئے گل، نالہ دل دودِ چراغ محفل

جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

 

لغات____

دودِ چراغ: چراغ کا دھواں 

نالہ دل : دل کی آہ و پکار 

بوئے گل : پھول کی خوشبو  

 

شرح_____ چراغ ٫ پھول اور نالہ دل تینوں کو بزمِ محبوب کی مناسبت سے لایا گیا ہے اور ایک حیران کن منطق کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کے اے محبوب تیرے بزم سے چراغ کا دھواں ہو یا پھول کی مہک یا پھر وہ نالہ دل ہو بے اثر و پریشان ہو کر نکل جاتا ہے۔ یہ کمالِ مشاہدہ و تخیل کا بیانیہ ہے کے تینوں چیزیں ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں اور فضا میں بکھر جاتی ہیں۔ 

 

 

دلِ حسرت زدہ تھا مائدہ لذتِ درد 

کام یاروں کا بہ قدر لبِ دنداں نکلا 

 

لغات___

مائدہ: دستر خوان 

حسرت زدہ : حسرتوں کا مارا ہوا 

بقدرِ لب و دنداں: استعداد و حیثیت کے مطابق , اپنی توفیق کے مطابق

 

شرح____ غالب کہتے ہیں کے میرے دستر خوانِ درد پر ہر قسم کا درد موجود تھا جس میں لذت و تلذذ کی ایک وسیع فہرست تھی ۔ بس جتنے دوست و یار آئے انہوں نے اپنی فرمائش و ذوق کے مطابق لذتِ درد کو لینا پسند کیا۔  

 

یعنی غالب کہنا چاہتے ہیں میرے اشعار میں ہر قسم کے درد و تکلیف اور اسکی لذت کا بیان ملتا ہے ۔  لیکن دوست اپنے ذوق و شوق کے مطابق ہی شعر سننے کی فرمائش کرتے ہیں۔  جبکہ میرے دیوان میں میرے اشعار میں ہر دکھ و درد کا بیانیہ ملتا ہے ۔

 

تھی نو آموزِ فنا , ہمت دشوار پسند 

سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آسان نکلا 

 

نو آموز : ابتدائی طالب علم 

ہمت دشوار پسند : مشکل امور کو نبٹانے کی ہمت 

 

شرح ___ 

یعنی میری ہمت دشواریوں کو اور مشکل کاموں کی دلدادہ ہے ۔ سو دنیا کے کاموں سے ماورا کام جسے مشکل سمجھا جاتا ہے وہ تو فنا ہے یعنی وجودات کے عالم سے مبرّا ہوکر دیکھنا اور سمجھنا ہے۔  

 

لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کے جس کام کو مشکل گردانا جاتا تھا وہ تو اس قدر آسان نکلا کے میری ہمتِ دشوار پسند نے یہ کام تو ابتداء میں ہی کردکھایا اور اول مرحلے میں عالمِ وجودات سے پرے عالمِ فنا یعنی عدم کی حقیقت کو بھی جان لیا اب تو میرے لیے بڑی مشکل بن گئ ہے کے اب میں کس مشکل کام کو سر انجام دوں اور اپنی ہمت دشوار پسند کو کس امر پر مرکوز کروں ۔ 

 

غالب کا کمال یہ ہے کے وہ عالمِ وجود سے اس قدر پرے جانے کے قائل ہیں کے وہ عدم کو بھی خاطر خواہ اہمیت نہیں دیتے اور کہتے نظر آتے ہیں ۔ 

 

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب 

ہم نے  دشتِ امکاں کو  ایک نقشِ پا پایا 

 

 

دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالب

آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا ٫ سو طوفان نکلا 

 

لغات___

گریے: آہ و زاری 

 

شرح____ یعنی جو دکھ اور درد آنسو بن کر آنکھوں سے نہیں بہے ان دبے آنسوں نے اندر طوفان مچا دیا ہے۔ 

 

غالب کا حسنِ تخیل اس قدر بلند ہے کے بڑے بڑے نفسیاتی مسائل اور لطیف نکتے اشعار میں باندھ دیتے ہیں کے اشعار کو کھولتے انسان مضمون کی گہرائیوں میں اترتا جاتا ہے۔ 

 

آج نفسیات اس نکتے کو شد و مد کے ساتھ بیان کرتی نظر آتی ہے ۔ کے دکھ و غم کے عالم میں رونا کس قدر ضروری اور سود مند ہوتا ہے۔

 

نفسیات کے مطابق رونے سے آہ و زاری کرنے سے کچھ ہارمونز کا اخراج ممکن ہوتا ہے جو انسان کو سکون و انبساط فراہم کرتے ہیں ۔  آکسی ٹاکسن اور اینڈور فینز کا اخراج ہونے سے انسان مسرت و راحت کو محسوس کرتا ہے ۔ 

 

فرائیڈ کہتے ہیں جو جذبات انسان کے اندر دفن ہوجاتے ہیں وہ بری طرح سے اور خطرناک شکلوں میں ابھرتے ہیں جس سے  نفسیاتی عارضوں کو جنم ملتا ہے۔

 

 


Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...