Skip to main content

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار

 غالب فہمی 

غزل_2 

شارح : اسامہ رضا 



جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار 

صحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا 


آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست 

ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا 


تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ 

جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا  



لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز 

لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا 


لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبقِ ہنوز 

لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا 


ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی 

میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا 


تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ 

سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا 



--------------------------------------------------------------------------------


جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار 

صحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا 


لغات ___ 

قیس : مجنوں کا نام (قیس کو مجنوں کا لقب لیلیٰ عامریہ سے محبت کی وجہ سے ملا قیس و لیلیٰ کا بچپن ساتھ میں گزرا اور مجنوں لیلیٰ کی محبت میں گرفتار ہوگیا اور  صحرا نوردی کرتے شام ٫ نجد و حجاز میں پایا گیا  )

بروئے کار : کسی کام کے کرنے پر آمادگی 

چشمِ حسود: حاسد کی نظر کی مانند تنگ 



شرح: یعنی قیس کے سوا کوئی عاشق ایسا نہیں پایا گیا کے جو عشق سے سرشار ہوکر صحراؤں کی خاک چھانتا۔ جبکہ صحرا کی وسعت کے تناظر میں صحراؤں کی خاک چھاننا یوں تو بہت کٹھن و تکلیف دہ لگتا ہے لیکن عاشقی میں سرشار شخص کیلئے صحرا حاسد کی نظر کی مانند تنگ ہے لیکن پھر بھی عشاق میں سے کوئی ایسا معروف و مشہور نام سامنے نہیں آیا لگتا ہے لوگ عاشقی کے اس پہلو کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں ' لیکن صحرا عشاق کیلئے یا عشاق کے مصائب و آلام کے آگئے ہیچ اور چشمِ حسود کی مانند تنگ ہے۔


آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست 

ظاہر ہوا کے داغ کا سرمایہ دود تھا 


لغات____

آشفتگی : پریشانی 

نقش: نشان 

سویدا : سیاہ نقطہ یا نشان 

دود: دھواں 


شرح ___

شعر کا لفظی مفہوم یہ ہے کے پریشانی کی وجہ سے دل پر داغ کا نشان بن گیا ہے جیسے اگر مسلسل دھواں کسی جگہ سے ٹکراتا رہے تو وہ سیاہ داغ بن جاتا ہے۔ 


لیکن اگر شعر کے لفظی حجابات کے اندر جھانکنے کی کوشش کی جائے تو غالب نے شعر میں ایک دلچسپ نفسیاتی سائنسی نکتہ باندھا ہے۔  


یہاں غالب نے آشفتگی کو ذہنی اضطراری و افسردگی کے خیالات کی مناسبت سے استعمال کیا ہے یعنی ذہن اگر مسلسل کسی پریشانی و اضطراری میں مبتلا ہو تو ان خیالات کا مسلسل بہاؤ دھوئیں کی مانند ایک داغ اور نشان بنا دیتا ہے۔ یعنی انسان کا مسلسل کسی ایک خیال کو ذہن پر سوار کرنا اسے نفسیاتی عارضے میں مبتلا کرسکتا ہے  ۔ 


چونکہ دھواں ایک عارضی اور قلیل مدت کی تاثیر رکھتا ہے کے دھواں نکلا اور ہوا میں منتشر ہوگیا ۔ اسی طرح کوئی افسردگی و پریشانی سے پر خیال انسان کو مختصر وقت کیلئے پریشان کرتا ہے ۔ لیکن اگر وہ دھواں مسلسل اٹھے اور کسی مخصوص جگہ سے ٹکرائے تو وہاں داغ بن جاتا ہے اسی طرح اگر کوئی پریشان کن خیال بار بار اپنی قباء بدل کر ذہن کے جہاں میں وارد ہوتا رہے تو ذہن بھی کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہو جاتا ہے۔گویا  نفسیاتی عارضوں کے پیچھے  انکا سرمایا پریشان کن خیالات ہوتے ہیں  " داغ کا سرمایہ دود تھا " 


تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ 

جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا 


شرح____

غالب اس مادی دنیا کے پردوں کے پسِ پردہ جھانکنے کے قائل ہیں ۔ غالب اپنے حکیمانہ و فلسفیانہ ذہن سے اس خوبصورتی کے ساتھ فلسفے کا ایک پورا School of thought بیان کر دیتے ہیں کے اسکی نظیر اردو ادب میں شاذ و ناذر ہی نظر آتی ہے ۔ 


غالب اس دنیا کو خواب خیال قرار دیتے ہیں اور اس میں ہونے والے معاملات و عوامل کو خیال قرار دیتے ہیں ۔ گویا دنیا ایک خواب کی مانند ہے جس کی حقیقت مادی معاملات سے کہیں پرے ہے۔ 


اور اس دنیا میں جو زیاں سود کے جو نظریات قائم ہیں گویا انکی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص حالتِ خواب میں کروڑوں کا مالک ہوجائے یا خواب کی حالت میں اسکا سارا سرمایہ لٹ جائے ' اگرچہ خواب میں اسکو زیاں و سود ہوا ہوگا لیکن جب وہ آنکھ کھولے گا تو اسے خبر ہوگی میرا تو کوئی زیاں یا نفع نہیں ہوا یہ تو صرف ایک خواب تھا حقیقت نہیں ۔ غالب اس پر استدلال کرتے ہیں کے یہ دنیا بھی ایک خواب ہے جسے ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس بات کو مزید سمجھنے کیلئے ہم افلاطون کی مثال کا سہارا لیتے ہیں۔



افلاطون کے مطابق جو بھی چیز جس شکل میں ہم دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں وہ  اسکی اصل شکل نہیں ہے ۔ جیسے کے ایک سیب کی مثال لے لیجیے تو سیب کی اصل ماہیت یا اصل شکل ہمارے حواسِ خمسہ سے پڑے ہے لیکن ہم سیب کو اپنے حواسِ خمسہ کے ذریعے ہی پرکھ سکتے ہیں 

یعنی اسکا ذائقہ کیا ہے اسکا رنگ کیا ہے یہ سب ہمارے حواسِ خمسہ کا پابند ہے اور حواسِ خمسہ حقیقت کا احاطہ نہیں کرتے جو دنیا کی اصل ہے جو دنیا کی حقیقت ہے وہ ہماری حواسِ خمسہ سے باہر کی بات ہے۔ یعنی یہ دنیا جس میں ذائقے ہیں ,رنگ ہیں , احساسات  ہیں یہ سب حواسِ خمسہ کی چال بازی ہے۔ یعنی ایک سراب ہے جسکی حقیقت کچھ اور ہے  ۔ 

اسکو سمجھانے کیلئے افلاطون ایک خوبصورت مثال دیتے ہیں 


۔Allegory Of the Cave 

تصور کیجئے ایک غار جس میں کچھ انسان مقید ہیں اور وہ اس طرح زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں کے وہ حرکت کرنے سے قاصر ہیں اور ایک دیوار سے لگے بیٹھے ہیں اور انکے سامنے ایک دیوار ہے اور وہ صرف اسی دیوار کو دیکھ سکتے ہیں  اور اس دیوار پہ انکو چند عکس حرکت میں دکھائی دیتے ہیں ۔ 

اس غار میں مقید لوگوں کے لیے وہی ساری دنیا ہے وہ سامنے والی دیوار ہی منظرِ کل ھے اور اس پے ہلتے جلتے عکس ہی حقیقت ہیں ۔ انکا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ کوئی واسطہ نہیں حتیٰ کے انہیں گمان بھی نہیں کہ اسکے علاوہ بھی کوئی دنیا ہے۔ 

افلاطون کہتے ہیں اگر ان میں سے ایک آدمی ان زنجیروں سے آزاد ہو کے سارا نظارہ دیکھتا ہے تو وہ دیوانہ وار حقیقت کا نظارہ کرتا ہے کہ جس عکس کو ہم حقیقت سمجھتے تھے وہ تو پس دیوار جلی آگ کی وجہ سے puppets کے سایے تھے ۔ یعنی اصلیت وہ وجودِ puppets تھے نہ کہ دیوار پہ چلتا وہ عکس وہ شخص غرقِ حیرت ہوجاتا ہے کہ جس کو میں نے ساری زندگی حقیقت جانا اصلیت مانا وہ بس ایک برم illusion تھا حقیقت کچھ اور ہے۔ 

جب وہ شخص  روشنی کے تعاقب میں چلتا ہے تو اسکی حیرت کی انتہا نہیں رہتی کے یہ روشنی تو باہر سے آرہی ہے وہ حیران ہوتا ہے کہ اسکے علاوہ بھی کچھ ہے جب وہ غار سے باہر نکلتا ہے تو اسکی عقل دھنگ رہ جاتی ہے کہ باہر اتنی بڑی دنیا ہے اور اس میں لاکھوں مناظر ہزاروں رنگ 

پودے شجر ماہتاب آسمان وغیرہ وغیرہ اس شخص کی حیرت کی انتہا نہیں رہتی کے اتنی بڑی دنیا اور جس غار کی وسعت اور دیوار پہ چلتے عکس کو وہ حقیقت جانتا تھا وہ صرف ایک دھوکہ تھا حقیقت تو کچھ اور ہے۔ 

اسی مثال پہ افلاطون استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ دنیا بھی برم ہے جس کی حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ صرف ہمارے حواسِ خمسہ کی چال ہے جس نے ہمیں حقیقت سے دور برم illusion میں مقید رکھا ہے۔

 

شاہد ہستی مطلق کی کمر ہے عالم 

لوگ کہتے ہیں کے ہے , پر ہمیں منظور نہیں



اگر ہم اب اس شعر پر غور کریں تو سمجھ آتا ہے کے یہ عالم جو محبوبِ حقیقی کی کمر کی مانند  پتا نہیں چلتا کے اصل میں وجود رکھتا ہے یا نہیں ۔ یعنی یہ ہے بھی کے نہیں ؟ اس پر لوگ کہتے ہیں کے"  ہے "  پر ہمیں یہ منظور نہیں ۔ الغرض غالب عالم کے وجود کو خیالی گردانتے ہیں کے اسکی حقیقت محض نامی ہے۔۔ 


غالب ایک اور جگہ لکھتے ہیں ۔


جز نام نہیں , صورتِ عالم مجھے منظور 

جز وہم نہیں , ہستی اشیاء مرے آگئے 


الغرض عالم صرف نامی یا محض فریبی وجود تو رکھتا ہے اسکے علاوہ اسکا وجود مجھے منظور نہیں ہے۔ 

اور ہستی اشیاء یعنی موجودات و وجود کی حیثیت وہم کے سوا کچھ نہیں ہے۔


لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز 

لیکن یہی کے رفت "گیا" اور بود " تھا "


لغات ____

رفت "گیا" اور بود " تھا " : رفت کے معنی گیا اور بود کے معنی تھا کے ہیں جیسے بچے پہلا سبق پڑھتے ہیں اور صیغے یاد کرتے ہیں 


شرح____

گویا میں ابھی تک  غم کے مکتب خانے کا ننھا طالبعلم ہوں یعنی ابتدائی طالب علم ہوں   ۔ یہاں لطیف نکتہ یہ کے غم کی درسگاہ میں پہلا سبق یہی ہے رفت گیا اور بود تھا۔  یعنی جو کچھ بھی تھا وہ گزر گیا اور ماضی میں فنا ہوچکا ہے ۔ گویا غمگین رہنا اور افسردہ رہنا تو عین واجب ہے کیونکہ  غم کی درسگاہ میں ماضی کے کھنڈرات میں ڈوبنا پڑتا ہے۔ اور انسان کو ماضی کا غم کھاتا رہتا ہے کے عشق سے پہلے وہ کس قدر عیش و آرام سے تھا۔ یا جب تک وصل کی گھڑیاں تھیں محبت کا دور تھا وہ کتنا حسین دور تھا ایسے خیالات کی آشفتگی اسے غمگین رکھتی ہے۔ اور یہی عشق کا پہلا درس ہے کے غم میں مبتلاء ہوجانا واجب ہے  ۔ 


ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی

میں ورنہ ہر لباس میں میں ننگِ وجود تھا 


لغات ____

داغِ عیوبِ برہنگی : عریانی کے عیبوں کے نشان ؛ یہاں مراد ہستی سے یا وجود سے جڑے آلام 

کفن : یہاں مراد موت ہے۔


غالب کا ہستی کے بارے میں خیال ہے کے وجود ہر حال میں غم کا باعث ہے الم کا سبب ہے  ۔ گویا وجود کا ہونا یا زندہ ہونا عیوب سے بھرا پڑا ہے ۔ لہٰذا جب تک ہستی ہے زندگی ہے انسان غموں سے مصائب سے مبرّا نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے غالب کہتے ہیں کے زندگی کا ختم ہوجانا ہی آلام و مصائب سے چھٹکارے کا واحد حل ہے۔ 


اسی نکتے کو اقبال نے بیان کیا 


موت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے دردِ فراق 

چارہ گر دیوانہ ہے میں لادوا کیونکر ہوا 


اور بزبانِ غالب اگر اسی مضمون کو مختلف رنگوں میں دیکھا جائے تو کچھ ایسے ہے۔


قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں 

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں 


غمِ ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک


یعنی عیوب ِبرہنگی سے مراد ہستی سے جڑے آلام ہیں اور انکو ڈھانپنے کا کام کفن ہی کرسکتا ہے ورنہ ننگِ وجودگی باقی رہتا ہے ۔


تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسد 

سرگشتہِ خمارِ رسوم و  قیود  تھا


لغات_____ 

تیشے : کلہاڑی 

سرگشتہ : سر پھرا , دیوانہ 

رسوم و قیود : رسموں اور پابندیوں میں مقید 

خمار : نشہ اترنے کی کیفیت


شرح___ 


اس شعر میں فرہاد کے عشق پر ایک لطیف اور باریک انداز میں تنقید کی گئ ہے۔فرہاد جو کے شیریں کے عشق کا دعویدار تھا اسکو شیریں سے شادی کیلئے ایک پہاڑ کو کھود کر وہاں سے ایک چشمے کو رواں کرنا تھا  ۔ فرہاد نے یہ زمہ اپنے سر لیکر رات دن پہاڑ کھودنا شروع کردیا شب و روز کی جد وجہد کے بعد جب فرہاد اپنی کامیابی کو پہنچ گیا تھا تو اسے خبر ملی کے شیریں کی تو شادی ہوچکی ہے۔ 


تو اس نے اسی ہتھیار سے جس سے وہ پہاڑ کھودتا تھا اپنے سر میں مارا اور مرگیا۔ جبکہ غالب کا تنقیدی استدلال یہ ہے کے فرہاد کو اگر اس سے عشق تھا تو یہ خبر سن کر ہی کیوں مر نہیں گیا ۔ ؟؟ اسکو مرنے کیلیے اپنے سر پر وار کیوں کرنا پڑا ۔؟ گویا وہ رسوم و قیود اور مادی حقیقت سے ہی موت کو گلے لگا سکا نہ کے شیریں کے عشق میں۔  

القصہ مختصر اسکا مرنا اس وار کی بدولت ہوا جو اس نے اپنے سر پر کیا بجائے اسکے کے فرہاد یہ غم بھری خبر سن کر ہی مر جاتا ۔

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...