Skip to main content

سگمنڈ فرائیڈ -4 سائیکو سیکشول تھیوری

             سگمنڈ فرائیڈ 

                           تحریر : اسامہ رضا 




( ب ) Anal 

شہوت خیز عضو : مقعدہ یا مبرز 

مدت : ۱ تا ۳ سال 


شخصیت کے نموئی مراحل کا دوسرا اہم مرحلہ Anal satge کہلاتا ہے۔ اس دور میں بچہ مبرز کے ذریعے فضلات کو خارج کرکے راحت و سکون حاصل کرتا ہے ۔ 

مبرز یا مقعدہ غذائی نالی کا آخری حصہ ہوتا ہے جو کے منہ سے شروع ہوتی ہے اور مبرز پر ختم ہوتی ہے ۔تقریباً دو سال کی عمر سے بچہ رفع حاجات کو ارادی طور پر سر انجام دیتا ہے اور اس پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے جبکہ اس سے قبل بچہ رفع حاجات کیلئے اپنے ماں باپ یا مربی کا محتاج ہوتا ہے۔

مبرز میں ہضم شدہ خوراک کے بعد بچنے والے فضلات جمع ہوتے ہیں جسے سے بڑی آنت کی دیواروں پر بوجھ پڑتا ہے ۔

بڑی آنت کے پیچھے کچھ والو ( valve)  کی طرح کے عضلات ہؤتے ہیں جسے عاصرہ مبرزی (  Anal Sphincters)  کہا جاتا ہے ۔ جب بڑی آنت پر ضرورت سے زیادہ بوجھ اور کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے تو یہ والو  ( Valve ) از خود کھل جاتے ہیں اور فاضل مادوں کا مبرز کے ذریعے اخراج ہوجاتا ہے ۔اس طرح بچہ رفع حاجات کے ذریعے فاضل مادوں کو خارج کرکے بڑی آنت پر پڑا بوجھ اور کھنچاؤ سے نہ صرف نجات حاصل کرتا ہے بلکہ اس عمل سے سکون و راحت کے ساتھ لذت بھی کشید کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے اس غیر ارادی فعل کو بچے جان بوجھ کر کچھ دیر موخر کرتے ہیں اور شدتِ ضرورت کے تحت فضلات کا اخراج کرکے انبساط و آرمیدگی حاصل کرتے ہیں جو انکے لیے عارضی سکون و راحت کا باعث ہوتی ھے۔ 


اس دور میں بھی بچہ رفع حاجات کے عادات و اطوار کو اپنے خارجی ماحول سے سیکھتا ہے جسے Toilet training کہا جاتا ہے۔ اگر بچے کو اس مرحلے کے دوران سخت ٹائلٹ ٹریننگ سے گزارا جائے اور غیر ضروری زور اور تحکم کے ذریعے اسے صفائی ستھرائی سکھائی جائے تو بعدازاں اسکی شخصیت میں صفائی ستھرائی کا خبطی پن جنم لے لیتا ہے۔ جبکہ اگر بچے کی ٹائلٹ ٹریننگ کو صحیح طور پر انجام نہ دیا جائے اور اسے صفائی ستھرائی کے آداب و اطوار سے آشنائی نہ بخشی جائے تو اسکے اندر گندا رہنے جیسی عادات پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ اپنی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنے کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا ۔بچپن کے اس دور میں سیکھے ہوئے اطوار بچے کی نفسیات کی تعمیر کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کے اطناب و کھنچاؤ اور پریشانی جیسی صورتحال میں اکثر لوگ رفع حاجات کے لیے بھاگتے ہیں ۔ چونکہ بچپن سے اطناب و کھنچاؤ کی صورتحال کو رفع کرنے کیلیئے بچہ رفع حاجات کیلئے جاتا یہی رویہ اسکی شخصیت میں مستقل عادت کے طور پر نفوس کر جاتا ہے جس کا اظہار زندگی میں آنے والی پریشانی , اطناب و کھنچاؤ کی صورتحال میں ہوتا رہتا ہے۔


( پ )  Phallic  

شہوت خیز عضو : عضو تناسل 

مدت : تین سے چھ سال 


تین سال کی عمر کے بعد بچوں میں کافی عضویاتی اور نفسیاتی تغیرات وقوع پذیر ہوتے ہیں بچے کے اہداف و معروض طے ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ شعور میں وسعت اور تجربے میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور بچے کے سیکھنے کے عمل میں بلاخیز سرعت سے اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ 


اس مرحلے میں بچہ اپنی جنس (sex)  سے آشنا ہوجاتا ہے۔اسکے اندر جنس کی تمیز و تخصیص سر اٹھانے لگتی ہے۔ وہ اپنے آپکو بطورِ مرد یا عورت جاننے لگ جاتا ہے۔ چونکہ مرد و عورت کے مخصوص عضو ساخت کی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اس لیے فرائیڈ اسے دو حصوں میں منقسم کرکے ان پر الگ الگ بحث کرتا ہے۔


فرائیڈ کے مطابق ہر شخص میں  دونوں جنس کے اوصاف ہوتے ہیں اور اس مرحلے میں اسکی bisexuality کسی ایک جنس میں نفسیاتی طور پر تبدیل ہوجاتی ھے۔لڑکا اس دور میں مماثلت کاری کرنے کی سعی کرنے لگتا ہے وہ یا تو اپنے باپ یا پھر اپنی ماں جیسا بننے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور انکے عادات و اطوار کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مرحلے کی سب سے اہم چیز بچے کی رغبت اور جھکاؤ ہے لڑکا اپنی ماں کی طرف رغبت اور محبت کے زیادہ جذبات رکھتا ہے جبکہ لڑکی اپنے باپ کے ساتھ زیادہ لگاؤ رکھتی ہے یہاں فرائیڈ نے اس لگاؤ اور شدت کو لڑکوں  میں Odeipus Complex اور لڑکیوں میں Electra complex کا نام دیا ۔ زیادہ تر جانوروں میں جنسی تعلقات  کو قائم کرتے وقت رشتوں کی تمیز نہیں رکھی جاتی فرائیڈ کہتا ہے اسی طرح انسان کے لاشعور میں Id جو اسے شہوت و لذت کے حصول پر مجبور کرتی ہے کسی اخلاقی قانون کی پاسدار نہیں ہوتی اس لیے بچوں میں ابتدائی طور پر متضاد والدین سے لگاؤ کا جذبہ پیدا ہوتا ھے جو کے ہمارے لاشعور کے اندر موجود سپر ایگو ( ضمیر ) کی قوت سے ٹکڑاتا ہے اور سپر ایگو ( ضمیر ) 

کی طاقت اس جذبے کو مبطون کرکے اخلاقی دائرے میں مقید کردیتی ہے۔ اس طرح خارجی ماحول کے سماجی , دھرمی , ثقافتی اور اخلاقی معیار سپر ایگو کی تشکیل و تعمیر کے ساتھ Id کی سرکش قوتوں کا قلع قمع کرتے ہیں اور انسانی شخصیت کی تعمیر و نشوونما کے سلسلے کو آگئے بڑھاتے ہیں ۔


( د )  Latency Stage 

شہوت خیز عضو : کوئی نہیں 

مدت : سات سے بارہ سال 


فرائیڈ کے مطابق اس دور میں بچے کی شہوتی اور جنسی توانائیاں عارضی طور پر معطل ہوجاتی ہیں ۔ اور بچہ خصوصاً نت نئے روابط اور سماجی تعلقات میں مشغول ہوجاتا ہے۔ وہ نئے دؤست بناتا ہے مختلف مشغلے اسکے ذوق کے مطابق اسکی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں اور یوں اسکی شخصیت مختلف روابط اور آشنائیوں سے مستحکم ہوتی چلی جاتی ھے ۔ اگر شخصیت کی نمو کا یہ مرحلہ اپنی تکمیل احسن طریقے سے کرنے میں کسی وجہ سے ناکام ہوجائے تو اسکی طبع میں خلوت پسندی اور سماجی دودی جیسی خصلتیں کروٹ لیکر بیدار ہونا شروع ہوجاتی ہیں جو اسکی شخصیت پر ان مٹ نقوش چھوڑتی ہیں ۔ اور اس مرحلے کی تکمیل میں ناکام شخص ذہنی تناؤ اور عجب اطناب و کھنچاؤ کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔

وہ لوگوں سے گھبراتا ہے محفلوں اور جلوتوں سے شرمانے کے ساتھ ساتھ بات کرنے میں جھجھک اور حیا محسوس کرتا ہے ۔


گلزار کے ایک شعر میں بات کو سموتے ہوئے اگلے مرحلے کا رخ کرتے ہیں 

 

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں 

  عمر  گزری  ہے  اس  قدر  تنہا


( ج ) Genital 

شہوت خیز عضو : تناسلی عضو 

مدت : بارہ سے تاحیات 


عنفوانِ شباب سے شروع ہونا والا یہ مرحلہ انسانی شخصیت کے نموئی مراحل کا سب سے طویل مرحلہ ہے۔ جس میں بلوغت بیدار ہوکے لذت و راحت کیلئے ابتدائی جنسی منطقے کی بجائے تناسلی عضو سے لذت حاصل کرتی ہے ۔ متضاد جنس میں دلچسپیاں پیدا ہونے لگتی ہیں ۔ قربت لمس جسمانی تعلقات جیسی خواہشات اپنی تکمیل کیلئے مختلف طریقوں سے سر اٹھاتی ہیں ۔ خانہ آبادی , معاشرتی معاملات , کاروبار اور مستقبل کے اہداف و اغراض متعین ہوتے جاتے ہیں پھر انکی تکمیل کیلئے اقدامات انسان کی شخصیت کی کانٹ چھانٹ کرکے اسکو ایک جداگانہ شخصیت کے طور پر باقی لوگوں سے  متمیز کرتے ہیں


Three easy's on Theory of Sexuality by freud

 

Psychology For  Everyman And Woman

Book by A. E. Mander


https://www.healthline.com/health/psychosexual-stages#anal-stage


https://www.simplypsychology.org/psychosexual.html 


فرائیڈ کے نظریات پر تنقید اور شخصیت کی تعمیر کی ماڈرن تھیوریز پر اگلی اقساط میں بات ہوگی ۔ 


اسامہ رضا

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...