Skip to main content

*"Family Therapy*"

 *"Family Therapy*"

*"فیملی تھیراپی*"


فیملی تھیراپی کو اکثر میریٹل تھیراپی کے ساتھ مدغم کر دیا جاتا تھا جبکہ دونوں تھیراپیز اوریجن کے لحاظ سے مختلف تھیں۔ فیملی تھیراپی اس وقت متعارف ہوئی جب انفرادی تھیراپی کے نتائج کو ملاحظہ کیا گیا۔ جب کوئی کلائنٹ انفرادی تھیراپی کے سیشن سے گزرتے تو وہ بہتر ہونے کے بعد اپنے خاندان سے دور ہو جاتے تھے، اسی طرح اگر کسی کلائنٹ کو ایجوکیشنل سیٹنگ میں ایڈجسٹ کرنے کے لئے انفرادی تھیراپی دی جاتی تو وہ واپس اپنے خاندان میں سے جڑنے کے بعد انہیں مسائل کا شکار ہو جاتا جس سے نکلنے کے لئے وہ انفرادی تھیراپی لے چکا ہوتا۔ جب یہ نتائج سامنے آۓ تو دیکھا گیا کہ جہاں انفرادی تھیراپی کے مثبت اثرات تھے وہی اس کے منفی نتائج بھی شدید تھے۔ ان اثرات کو ختم کرنے کے لئے فیملی تھیراپی کو متعارف کروایا گیا۔


فیملی تھیراپی اس لئے بھی اہم تھی کہ وہ افراد یہ خاندانی تنازعات کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھے، ان کی شخصیت کو بحال کرنے اور ان کی تربیت کرنے کے میں یہ تھیراپی اہم کردار ادا کرتی تھی۔ اسی طرح بہت سے بچے جو نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، ان کے علاج کے لئے فیملی کی تھیراپی کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا بچوں کی۔


فیملی تھیراپی کو بنیاد فراہم کرنے والے بنیادی نکات یہ تھے کہ:

(1): جب کسی کلائنٹ کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد یہ دیکھا جاتا کہ اس کلائنٹ کو درپیش مسئلے کا تعلق اس کے خاندان کی وجہ سے ہے۔


(2): ایسی صورتحال میں جو چیز سب سے پہلے سامنے آتی وہ والدین، بھائی بہنوں کا اس کلائنٹ کے ساتھ خراب رویہ ہوتا۔ یعنی ایسے کلائنٹ کی ہسٹری سے پتہ چل جاتا تھا کہ اس کو ذہنی اذیت سے گزارنے والے اس کے اپنے ہیں۔


(3): ایسے کلائنٹ کو میں جھوٹ کی عادت دیکھی جاتی ہے، یعنی ایسے کلائنٹ فیملی میں موجود افراد کی سزا سے بچنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ اسی طرح ایسے افراد صرف فیملی میں موجود ان افراد کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس کرتے ہیں جو انھیں ذہنی اذیت نہیں دیتے۔ 


مثال کے طور پر:۔  ایک شادی شدہ جوڑا، جس میں بیوی کا تعلق اپنے شوہر کے ساتھ غیر تسلی بخش ہے اور بیوی اپنی تمام تر توجہ اپنے بیٹے پہ دیتی ہے۔ وہ ہر وقت اپنے بیٹے پر نظر رکھتی ہے۔ اس توجہ کے دوران وہ اپنی بیٹی اور شوہر کو بلکل نظر انداز کر دیتی ہے۔ اس صورتحال میں بچہ منفی اثرات کا شکار ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ ماں کی بے جا توجہ سے بیزار ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ جب اپنی ماں کا غلط رویہ اپنے باپ اور بہن کے ساتھ دیکھتا ہے تو بھی وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ ایسا بچہ سکول میں بھی ہر وقت انہیں سوچوں میں مشغول رہتا ہے کہ میری ماں مجھ پر ہی ساری توجہ کیوں دیتی ہے اور میری ماں کا رویہ میرے باپ اور بہن کے ساتھ درست کیوں نہیں۔ سکول میں بچے کی خراب کارکردگی فیملی پروبلم کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایسی صورتحال میں فیملی تھیراپی ریکیمینڈ کی جاتی ہے۔ جس میں بچے کی تھیراپی کے ساتھ ساتھ فیملی تھیراپی بھی باقاعدہ ہوتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...