Skip to main content

" Science behind kissing "

 " Science behind kissing "  

چومنا اتنا دلفریب کیوں ہوتا ہے  

                          تحریر : اسامہ رضا 



آغازِ الفت کی پرکیف وادی میں کسی شخص سے مانوس ہو کر اسکی صوت و صورت سے سامانِ راحت  کشید کرنا عشاق کا وتیرہ رہا ہے۔ عمومی طور پر ابتدائے عشق میں محبت کو پاکیزہ جذبات سے جوڑا جاتا ہے جس میں طبعی و شہوانی خواہشات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ  یہ رشتہ رؤح کی طمانیت سے منسلک سمجھا جاتا ھے۔ اور محب و محبوب ایک دوسرے کو دیکھ کر راحت و مسرت کے گھونٹ بڑھتے ہیں تو کبھی باہمی گفتگو سے فرطِ مسرت کو توانائی و تواتر بخشتے ہیں ۔ گویا ابتدائے عشق میں ایک دیوارِ تفاوت شہوات و چاہت کے درمیان حائل سمجھی جاتی ہے۔ شاید  ان  جذبات کو شعر میں  سمیٹ کر بیان کرنا مناسب   ہوگا ۔  


دیکھ   لمسِ   لطافت    کا   انداز  کتنا  پاکیزہ ہے 

نہیں عضوِ طبعی حائل  فقط آنکھوں سے چھونا ہے  


لیکن جونہی صوت و صورت کے گلشن سے اہلِ الفت خلدِ لمس میں داخل ہوتے ہیں ۔ راحت و مسرت کا مبتدا سے شروع سفر اپنی منتہا کی طرف گامزن ہوجاتا ہے۔ اور دماغ کے ریوارڈ سسٹم سے پیدا ہونے والے خوشی و مسرت اور راحت و عشرت کے ہارمونز و  نیورو ٹرانس میٹر کی سرعت بلا خیز حد تک فعال ہوجاتی ہے۔ اور بدن میں راحت و طمانیت کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے  ۔ جب اہلِ الفت ایک دوسرے کے ہاتھوں کو تھام کر سرور کے بحرِ بیکراں اور لذت کے دریا میں غوطہ زن ہوتے ہیں ۔ ایک عجب راحت کا احساس اور ایک منفرد خوشی تن و بدن میں پھیل جاتی ھے۔ 

دماغ میں جنم لینے والا ڈوپامائن ( Dopamine ) راحت و مسرت کا موجد ثابت ہوتا ھے ۔ اور اس ڈوپامائن کی تاثیر انسان کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور اسے اس عمل لذت اور اس پر کیف امر کو جاری و ساری رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ 


لیکن جب یہ لمس  وجود کے حساس حصوں پر اپنی سحر انگیزی دکھاتا ہے تو ڈوپامائن ( Dopamine ) نشاط و فرط اور  راحت و مسرت کے احساسات اپنی انتہاء  کو چھونے لگتے ہیں اور انکی تاثیر بدن میں بھی طلسماتی قوت کے ساتھ سراپائے عمل ہوجاتی ہے۔ جب لمس لبوں کی وادی سے گزرتا ہے اور اہلِ الفت بوس و کنار سے اپنے جذبات کی جادوئی قوت میں گم ہوتے ہیں تؤ دماغ سے ٹیسٹو سٹیرون ( Testosterone )  اور ایسٹروجن ( Estrogens ) شہوانی خواہشات کی بیداری و تکیمل کی طرف گامزن ہوجاتے ہیں ۔ جبکہ سیروٹونین Serotonin  مزاج و طبع کو خوش باش اور پر سرؤر رکھنے کے کام میں جت جاتا ہے۔ خؤن میں کوریسٹال ( Coristol ) کا لیول کم ہوجاتا ہے جس سے پژمردگی اور پریشآنی جیسے خلل ساز جذبوں کا قلع قمع ہؤجاتا ہے۔ اور دو پریمی پورے انہماک کے ساتھ اس بوس و کنار میں لگ جاتے ہیں اور راحت ؤ مسرت کی ایسی پر لذت وادی میں بھٹک جاتے ہیں کے انکے آپس میں زعم ہونے کا احساس بھی انکے خیال سے نہیں گزرتا اور دماغی ہارمونز اور نیوروٹرانس میٹرز کے تخلیق شدہ جذبات کے سحر میں وہ شعور کو بالائے طاق رکھ کے کھو جاتے ہیں   ۔ اور جسم پر بوس کنار کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو کے سب دماغ کا کیا دھرا ہوتا ہے۔ 

 

بے گنتی بوسے لیں گے رخ دل پسند کے 

عاشق ترے پڑھے نہیں علمِ حساب کو 


اظہارِ جذبات میں بوسوں کے عمل دخل کی کہانی کچھ لؤگوں کے قریب ماں کا بچوں کؤ اپنے منہ سے کھانا کھلانے سے جا ملتی ہے جیسے عموماً پرندوں میں دیکھنے کو ملتا ہے لیکن یہ مفروضہ بہت سے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ھے ۔ اس لیے بوسے کی تاریخ اور ارتقائی تخلیق کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ تاہم اسکو لمس کے تناظر میں دیکھا جائے تو بات کافی حد تک واضح ہوجاتی ہے کے لمس سے یعنی چھونے سے جسم میں راحت و مسرت کو وجود ملتا تھا اور اسی عمل کا تجربہ جب جسم کے حساس حصوں پر کیا گیا تو لذت و سرؤر میں اضافہ محسوس ہونے لگا جبکہ لب حساسیت کو محسوس کرنے والے حساس ترین حصے ہیں لہٰذا لبوں سے چھو کر راحت محسوس کرنے کا آغاز ہوا اسی طرح جب زبان اور منہ میں موجود پانی saliva کے ذریعے اس تجربے کو کیا گیا تو لذت و رآحت میں مزید اضافہ محسوس ہؤنے لگا  ( جبکہ ایک نظریے کے مطابق بوس و کنار کے   وقت saliva میں کچھ تناسب ٹیسٹوسٹیرون کا بھی پایا جاتا ہے جو شہوانی خواہشات کو متحرک کرتا ہے ) 


اسی طرح بوسوں کے مختلف طریقوں کؤ تشکیل ملی جو آج جانوروں اور خاص کر کے انسانوں میں پائے جاتے ہیں ۔


کتاب "محبت کی حقیقت" سے اقتباس

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...