Skip to main content

Three Essay on theory Sexuality


 ♦️سگمنڈ فرائیڈ کی مشہورِ زمانہ و بدنام زمانہ کتاب  ♦️


         🚫 "Three Essay on theory  Sexuality"🚫


تحریر : اسامہ رضا 


سگمنڈ فرائیڈ جنسی میلانات و خواہشات کا تعلق بچپن سے جوڑتا تھا فرائیڈ کے مطابق انسان کے لاشعور میں پنہاں اڈ کی تحریک جنسی تلذذ کی طلبگار ہوتی ہے اور جنسی تلذذ انسان کیلئے سکون و راحت کا سامان ہوتا ہے گویا انسان بنیادی طور پر بچپن سے جنسی لذتوں کو مختلف چیزوں سے حاصل کرتا ہے اور پھر اسکے بعد جب اسکے مخصوص اعضاء بلوغت میں جنسی خواہشات کی تکمیل کیلئے تیار ہوتے ہیں تو اسکے جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے رجحانات تبدیل ہوتے ہیں ۔ اس سے قبل وہ ماں کا دودھ پینے سے لیکر انگوٹھا چوسنے جیسے افعال و اعمال سے اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کرنے کی سعی کرتا ہے تو کبھی رفع حاجت سے سکون و اطمینان حاصل کرتا ہے۔  


فرائیڈ کے جنسیت سے متعلقہ نظریات نے اہلِ مذہب و ملت کو جنجھوڑ دیا کلیساؤں کے کلچرز میں جہاں رہابنیت اور دنیا و مافیہا میں جنسی تلذذ کو ترک کرنے کو اجر و ثواب کا سب سے بڑا درجہ گردانا جانا جاتا تھا فرائیڈ نے ان نفسی خواہشات و وظائف کو انسانی جبلت قرار دے دیا جو عہدِ طفولیت سے شروع ہوتی ہیں اور  لڑکپن و جوانی میں اپنے جوبن کو پہنچتی ہیں ۔ گویا فرائیڈ نے جنسی خواہشات کو انسانی جبلت قرار دیا نا کہ انسان کا کوئی اختیاری عمل بتایا ۔


فرائیڈ نے اپنی کتاب تھری ایسے آن تھیوری آف  سیکشولٹی Three Essay On Theory of Sexuality میں جنسی رغبتوں کی بنیادیں اور جڑیں عہد طفولیت اور شیرخوارگی کے زمانے میں تلاش کرنے کی کوشش کی  فرائیڈ کا انسانی ذہنی ساخت میں عمل پیرا ذہن کا سب سے بڑا اور موثر حصہ لاشعور کو موضوع بنایا اور لاشعوری تحریکوں میں جنسی خواہشات و میلانات اور راحت و انبساط کے جذبے کو اسکا سبب بتا کر انسانی افکار و اعمال کی شرح کرنے کی کوشش کی نیز نفسیاتی امراض کی تشخیص کیلئے بھی لاشعور کو چھاننے کا طریقہ تخلیقی کیا جس کو تحلیل النفسی کہا جاتا ہے ۔


انسانی شخصیت کی تعمیر  میں موروثیت اور اسکے ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے ۔ شخصیت کی تعمیر کے نموئی مراحل ہی اسکی تکمیل کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ اور ان مراحل کا موصول تجربہ ہی اسکی شخصیت اور اسکے مزاج کی کانٹ چھانٹ کر کے اسے ایک جدا شخصیت بناتا ھے ۔ ہر انسان ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے اسکی شخصیت اسکا مزاج اسکی طبع ہر عمل ایک طرح سے منفرد اور کھربوں انسانوں سے یگانہ ہوتا ہے ۔ ایک ہی والدین ہونے کے باوجود بہن بھائیوں کا آپس میں اس قدر جدا طبیعت رکھنا موروثی قوتوں کی تعمیرِ ذات میں شراکت کی نفی کرتا ہے۔ اگر بچے والدین کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں تو ایک ہی والدین رکھنے والے بچے ایک دوسرے سے اتنے مختلف اور منفرد کیوں ہوتے ہیں ؟ وہ کونسے عوامل اور وہ کونسی جادوئی قوتیں ہیں جو انسان کو ایک جدا شخص بناتی ہیں ؟ بچے کی نفسیات آخر کن مراحل کے مرہونِ منت ہوتی ھے ؟ آئیے اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سگمنڈ فرائڈ نے اپنی کتاب "Three Essay on theory  Sexuality"

 میں شخصیت کی تعمیر کے پانچ مراحل بیان کیے  ہیں ۔ فرائیڈ کی تھیوری کو سمجھنے سے پہلے ایک بات ذہن نشین کر لیجیئے فرائیڈ نے اپنی اس تھیوری کی بنیاد جنسیت پہ رکھی اور فرائیڈ جنسیت کی اصطلاح کو وسیع معنی میں استعمال کرتا ہے اسکے نزدیک ہر وہ شئے جو لذت و تلذذ اور راحت و سکون کا باعث بنے جنسیت کے زمرے میں آتی ہے۔اور ہر وہ فعل جو لذت و راحت کشید کر دے جنس و لذت کے زمرے میں آتا ہے حتیٰ کے طنز و مزاح سے پیدا ہونے والا حظ و انسباط بھی جنسی لذت کے دائرے سے باہر نہیں  ۔  فرائیڈ کے مطابق لاشعور میں چھپی ایگو (Ego)  کی شیطانی قوتیں لذت و راحت کے حصول کیلئے انسان میں جنسیات و شہوت کو وجود بخشتی ہیں ۔آئیے فرائیڈ کی جنسی لذت پر مبنی انسانی شخصیت کی تعمیر کی تھیوری کی  توجہیہ کی توضیح کرتے ہیں .


   ▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️


فرائیڈ انسانی شخصیت کے نموئی مراحل کو پانچ ادوار میں منقسم کرتا ہے یہاں یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کے فرائیڈ کی تھیوری جنسیات کے گرد محوِ گردش ہے ۔


▪️▪️( ا ) Oral 

▪️▪️( ب ) Anal 

▪️▪️( پ ) Phallic 

 ▪️▪️( د ) Latent

▪️▪️ ( ج ) Genital


▪️( ا ) Oral

شہوت خیز عضو   : منہ 

مدت : پیدائش سے ایک سال 


پہلے دور کا آغاز بچے کی پیدائش سے ہوجاتا ہے۔ بچے اپنے ابتدائی طفولیت کے دور میں لذت و راحت اپنے منہ سے حاصل کرتا ھے۔چیزوں کو منہ میں ڈالنا چبانا چوسنا اسکے لیے لذت کے دو بڑے ذرائع ہوتے ہیں ۔

 بچہ ماں کا دودھ پیتا ھے اور خوارک کے ساتھ ساتھ راحت و سکون بھی حاصل کرتا ہے ۔ اس دور میں بچہ ہر چیز کو منہ میں ڈالنے کی سعی کرتا ہے  چیزوں کو منہ میں ڈال کے چوسنا چبانا اور لمس کے ذریعے راحت کا حصول اس دور میں بدرجہ اتم جاری و ساری رہتا ہے  ۔ لیکن اگر کسی وجہ سے بچہ ماں کے دودھ اور مطلوبہ راحت و لذت سے محروم رہ جائے تو اسکی شخصیت میں کچھ اعادات و اطوار لاشعوری طور پر جنم لیتے ہیں اور بچہ اس حصولِ لذت کیلئے کبھی مٹی کو منہ میں ڈالتا ہے کبھی انگلیوں کو منہ میں ڈال کے چوستا ھے۔ اگر اس مرحلے کی تکمیل میں کوئی بچہ ناکامیاب رہتا ہے تو اسکے اندر اس مرحلے کے مخصوص اطوار اپنے ان مٹ نقوش چھاپ دیتے ہیں ۔ جیسا کے اکثر دیکھنے میں آتا ہے کے بچے اپنے ناخن چبانے کی عادت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ لوگ بچپن میں اس تلذذ کو انگوٹھا چوس کر پورا کرتے ہیں اور بچپن کے ادوار کے بعد بھی اسکے اندر یہ انگوٹھا چوسنے کی عادت قائم و دائم رہتی ہے ۔ اسی طرح جسم کے بال کھانا لبوں کو چبانا وغیرہ وغیرہ جیسی عادات بچپن کے اس ابتدائی طفولیت کی یادگار ہوتی ہیں ۔ اسی طرح یہی عادات و اطوار جب طفولیت سے عنفوانِ شباب میں منتقل ہوتی ہیں تو لذت و راحت کے مطلوبہ حصول کیلئے سگریٹ نوشی سپاری وغیرہ انگوٹھا چوسنے اور ناخن چبانے جیسی عادات کا متبادل بن جاتی ہیں ۔  

جن بچوں سے جلدی دودھ چھڑوا لیا جاتا ہے انکے اندر ایک احساسِ عدم تحفظ جنم لیتا ہے جو آنے والی زندگی میں اسکو مایوس شخصیت یا پھر لالچ ؤ طمع سے بھرپور شخصیت بنادیتا ہے جو ہر چیز پر قابض ہونے کی کوشش کرتا ھے۔ 

بچپن کے اس دور میں بچہ اپنی والدین خصوصاً ماں کا دستِ نگر ہوتا ہے اگر اسے مطلوبہ غذا اور لذت و راحت سے محرومیت کا سامنا کرنا پڑے تو اسکے اندر جارحیت کا رویہ تشکیل پاتا ھے اور وہ آنے والی زندگی میں سخت مزاج اور نقادی شخصیت بن کے ابھرتا ہے ۔ اور اگر اسکی ضروریاتِ لذت و راحت باہم دیگر خوارک تسلسل کے ساتھ پوری ہوں تو اسکے اندر خوش مزاجی تعمیری اطوار پروان چڑھتے ہیں ۔  جبکہ خوراک و لذت کی عدم فراہمی بھی اسکی شخصیت میں تعمیری عوامل تشکیل دے سکتی ہے جس کی وجہ اس تشویش کا تدارک ہوتا ھے جو احساسِ عدم تحفظ کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔ چونکہ احساسِ عدم تحفظ اور لذت و راحت کی عدم فراہمی اسکے اندر تشویش اور ملال کو جنم دیتی ہے جو اسکی شخصیت کو ایک مسلسل گرداب میں جکڑ لیتی ہے۔ اور اس ڈپریشن سے شخصیت کو آزاد کرنے کیلئے ذہن قربانی اور اپنا مال دوسروں پر لٹانے جیسی خصلتوں کو جنم دیتا ہے جو بنیادی طور پر اس بات کا اظہار ہوتا ھے کے اسے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یوں ضرورت سے زیادہ غنی اور سخی ہونا بھی ایک ذہنی عارضے کی شکل ہے ۔


▪️( ب ) Anal 

شہوت خیز عضو : مقعدہ یا مبرز 

مدت : ۱ تا ۳ سال 


شخصیت کے نموئی مراحل کا دوسرا اہم مرحلہ Anal satge کہلاتا ہے۔ اس دور میں بچہ مبرز کے ذریعے فضلات کو خارج کرکے راحت و سکون حاصل کرتا ہے ۔ 

مبرز یا مقعدہ غذائی نالی کا آخری حصہ ہوتا ہے جو کے منہ سے شروع ہوتی ہے اور مبرز پر ختم ہوتی ہے ۔تقریباً دو سال کی عمر سے بچہ رفع حاجات کو ارادی طور پر سر انجام دیتا ہے اور اس پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے جبکہ اس سے قبل بچہ رفع حاجات کیلئے اپنے ماں باپ یا مربی کا محتاج ہوتا ہے۔

مبرز میں ہضم شدہ خوراک کے بعد بچنے والے فضلات جمع ہوتے ہیں جسے سے بڑی آنت کی دیواروں پر بوجھ پڑتا ہے ۔

بڑی آنت کے پیچھے کچھ والو ( valve)  کی طرح کے عضلات ہؤتے ہیں جسے عاصرہ مبرزی (  Anal Sphincters)  کہا جاتا ہے ۔ جب بڑی آنت پر ضرورت سے زیادہ بوجھ اور کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے تو یہ والو  ( Valve ) از خود کھل جاتے ہیں اور فاضل مادوں کا مبرز کے ذریعے اخراج ہوجاتا ہے ۔اس طرح بچہ رفع حاجات کے ذریعے فاضل مادوں کو خارج کرکے بڑی آنت پر پڑا بوجھ اور کھنچاؤ سے نہ صرف نجات حاصل کرتا ہے بلکہ اس عمل سے سکون و راحت کے ساتھ لذت بھی کشید کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے اس غیر ارادی فعل کو بچے جان بوجھ کر کچھ دیر موخر کرتے ہیں اور شدتِ ضرورت کے تحت فضلات کا اخراج کرکے انبساط و آرمیدگی حاصل کرتے ہیں جو انکے لیے عارضی سکون و راحت کا باعث ہوتی ھے۔ 


اس دور میں بھی بچہ رفع حاجات کے عادات و اطوار کو اپنے خارجی ماحول سے سیکھتا ہے جسے Toilet training کہا جاتا ہے۔ اگر بچے کو اس مرحلے کے دوران سخت ٹائلٹ ٹریننگ سے گزارا جائے اور غیر ضروری زور اور تحکم کے ذریعے اسے صفائی ستھرائی سکھائی جائے تو بعدازاں اسکی شخصیت میں صفائی ستھرائی کا خبطی پن جنم لے لیتا ہے۔ جبکہ اگر بچے کی ٹائلٹ ٹریننگ کو صحیح طور پر انجام نہ دیا جائے اور اسے صفائی ستھرائی کے آداب و اطوار سے آشنائی نہ بخشی جائے تو اسکے اندر گندا رہنے جیسی عادات پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ اپنی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنے کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا ۔بچپن کے اس دور میں سیکھے ہوئے اطوار بچے کی نفسیات کی تعمیر کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کے اطناب و کھنچاؤ اور پریشانی جیسی صورتحال میں اکثر لوگ رفع حاجات کے لیے بھاگتے ہیں ۔ چونکہ بچپن سے اطناب و کھنچاؤ کی صورتحال کو رفع کرنے کیلیئے بچہ رفع حاجات کیلئے جاتا یہی رویہ اسکی شخصیت میں مستقل عادت کے طور پر نفوس کر جاتا ہے جس کا اظہار زندگی میں آنے والی پریشانی , اطناب و کھنچاؤ کی صورتحال میں ہوتا رہتا ہے۔


▪️( پ )  Phallic  

شہوت خیز عضو : عضو تناسل 

مدت : تین سے چھ سال 


تین سال کی عمر کے بعد بچوں میں کافی عضویاتی اور نفسیاتی تغیرات وقوع پذیر ہوتے ہیں بچے کے اہداف و معروض طے ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ شعور میں وسعت اور تجربے میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور بچے کے سیکھنے کے عمل میں بلاخیز سرعت سے اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ 


اس مرحلے میں بچہ اپنی جنس (sex)  سے آشنا ہوجاتا ہے۔اسکے اندر جنس کی تمیز و تخصیص سر اٹھانے لگتی ہے۔ وہ اپنے آپکو بطورِ مرد یا عورت جاننے لگ جاتا ہے۔ چونکہ مرد و عورت کے مخصوص عضو ساخت کی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اس لیے فرائیڈ اسے دو حصوں میں منقسم کرکے ان پر الگ الگ بحث کرتا ہے۔


فرائیڈ کے مطابق ہر شخص میں  دونوں جنس کے اوصاف ہوتے ہیں اور اس مرحلے میں اسکی bisexuality کسی ایک جنس میں نفسیاتی طور پر تبدیل ہوجاتی ھے۔لڑکا اس دور میں مماثلت کاری کرنے کی سعی کرنے لگتا ہے وہ یا تو اپنے باپ یا پھر اپنی ماں جیسا بننے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور انکے عادات و اطوار کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مرحلے کی سب سے اہم چیز بچے کی رغبت اور جھکاؤ ہے لڑکا اپنی ماں کی طرف رغبت اور محبت کے زیادہ جذبات رکھتا ہے جبکہ لڑکی اپنے باپ کے ساتھ زیادہ لگاؤ رکھتی ہے یہاں فرائیڈ نے اس لگاؤ اور شدت کو لڑکوں  میں Odeipus Complex اور لڑکیوں میں Electra complex کا نام دیا ۔ زیادہ تر جانوروں میں جنسی تعلقات  کو قائم کرتے وقت رشتوں کی تمیز نہیں رکھی جاتی فرائیڈ کہتا ہے اسی طرح انسان کے لاشعور میں Id جو اسے شہوت و لذت کے حصول پر مجبور کرتی ہے کسی اخلاقی قانون کی پاسدار نہیں ہوتی اس لیے بچوں میں ابتدائی طور پر متضاد والدین سے لگاؤ کا جذبہ پیدا ہوتا ھے جو کے ہمارے لاشعور کے اندر موجود سپر ایگو ( ضمیر ) کی قوت سے ٹکڑاتا ہے اور سپر ایگو ( ضمیر ) 

کی طاقت اس جذبے کو مبطون کرکے اخلاقی دائرے میں مقید کردیتی ہے۔ اس طرح خارجی ماحول کے سماجی , دھرمی , ثقافتی اور اخلاقی معیار سپر ایگو کی تشکیل و تعمیر کے ساتھ Id کی سرکش قوتوں کا قلع قمع کرتے ہیں اور انسانی شخصیت کی تعمیر و نشوونما کے سلسلے کو آگئے بڑھاتے ہیں ۔


▪️( د )  Latency Stage 

شہوت خیز عضو : کوئی نہیں 

مدت : سات سے بارہ سال 


فرائیڈ کے مطابق اس دور میں بچے کی شہوتی اور جنسی توانائیاں عارضی طور پر معطل ہوجاتی ہیں ۔ اور بچہ خصوصاً نت نئے روابط اور سماجی تعلقات میں مشغول ہوجاتا ہے۔ وہ نئے دؤست بناتا ہے مختلف مشغلے اسکے ذوق کے مطابق اسکی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں اور یوں اسکی شخصیت مختلف روابط اور آشنائیوں سے مستحکم ہوتی چلی جاتی ھے ۔ اگر شخصیت کی نمو کا یہ مرحلہ اپنی تکمیل احسن طریقے سے کرنے میں کسی وجہ سے ناکام ہوجائے تو اسکی طبع میں خلوت پسندی اور سماجی دودی جیسی خصلتیں کروٹ لیکر بیدار ہونا شروع ہوجاتی ہیں جو اسکی شخصیت پر ان مٹ نقوش چھوڑتی ہیں ۔ اور اس مرحلے کی تکمیل میں ناکام شخص ذہنی تناؤ اور عجب اطناب و کھنچاؤ کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔

وہ لوگوں سے گھبراتا ہے محفلوں اور جلوتوں سے شرمانے کے ساتھ ساتھ بات کرنے میں جھجھک اور حیا محسوس کرتا ہے ۔گلزار کے ایک شعر میں بات کو سموتے ہوئے اگلے مرحلے کا رخ کرتے ہیں 

 

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں 

  عمر  گزری  ہے  اس  قدر  تنہا


▪️( ج ) Genital 

شہوت خیز عضو : تناسلی عضو 

مدت : بارہ سے تاحیات 


عنفوانِ شباب سے شروع ہونا والا یہ مرحلہ انسانی شخصیت کے نموئی مراحل کا سب سے طویل مرحلہ ہے۔ جس میں بلوغت بیدار ہوکے لذت و راحت کیلئے ابتدائی جنسی منطقے کی بجائے تناسلی عضو سے لذت حاصل کرتی ہے ۔ متضاد جنس میں دلچسپیاں پیدا ہونے لگتی ہیں ۔ قربت لمس جسمانی تعلقات جیسی خواہشات اپنی تکمیل کیلئے مختلف طریقوں سے سر اٹھاتی ہیں ۔ خانہ آبادی , معاشرتی معاملات , کاروبار اور مستقبل کے اہداف و اغراض متعین ہوتے جاتے ہیں پھر انکی تکمیل کیلئے اقدامات انسان کی شخصیت کی کانٹ چھانٹ کرکے اسکو ایک جداگانہ شخصیت کے طور پر باقی لوگوں سے  جدا کرتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...