Skip to main content

تہذیب اور اسکے ہیجانات "Civilization and Its Discontents"

 تہذیب اور اسکے ہیجانات

         "Civilization and Its Discontents"



                             تحریر: اسامہ رضا

   


فرائیڈ کے دیگر تخلیقی نظریات کی طرح یہ کتاب تہذیب اور اسکے ہیجانات "Civilization and Its Discontents"

انسانی فطرت و نفسیات کو تہذیبوں کے دامن سے نشو و ن پاتا ہوا دکھاتی ہے کہ کیونکر انسان نے تہذیبوں کو اپنی بقاء اور آسانی کی راہ بنایا اور کس طرح تہذیبوں نے انسان کی   انفرادیت اور متعدد نجی خواہشات کا گلا گھونٹ کر اسکو  غمزدہ کردیا ۔ انسان نے اپنی راحت و آسائش کیلئے جہاں تہذیبوں کے دامن میں پناہ لی وہیں تہذیبوں سے ملے روگ پالنا بھی اسکا مقدر بن گیا۔


کتاب کا مرکزی خیال  یہ ہے کہ انسان کو تہذیبوں کے ارتقائی سفر اور جدیدیت نے غمزدہ کردیا ہے ۔ انسان کو کلچر ٫ معاشرے اور رہن سہن کیلئے اپنی کئ خواہشات کو دبانا پڑتا ہے ۔ گویا اسکی انفرادیت اجتماعیت کی افادیت  کیلئے قربان کی جاتی ہے جو درست بھی ہے لیکن اس سے انفرادی سطح پر کئ نفسیاتی مسائل کا جنم ہوتا ہے جس سے ہزاروں لوگ نبرد آزما ہوتے رہتے ہیں اور بلاآخر معاشرے میں پھر وہی غمزدگی و افسردگی ہی برقرار  رہتی  ہے۔


فرائیڈ کتاب کے پہلے باب میں ایک فلسفیانہ مکالمے کا حوالہ دیتے ہیں جو انکے دوست رومین رولانڈ ( فرانسیسی ادیب + نوبل انعام یافتہ ) کے درمیان ہوتا ہے ۔ 

بات کچھ ایسے تھی کہ فرائیڈ کی 1927 میں ایک کتاب شائع ہوئی تھی جس نے مذہبی حلقوں میں بہت طوفان بپا کیا  کتاب کا نام The future of an Illusion  تھا ،اور موضوع مذہب تھا  مذہب کا نفسیاتی جائزہ لینے والی یہ الگ نوعیت کی کتاب تھی جس نے عیسائیت کی بنیادوں کو چیلنج کردیا  فرائیڈ نے اس کتاب میں بتایا کہ مذہب  ایجاد کیونکر ہوا اور اور کیا نفسیاتی عوامل تھے جن کی بناء پر مذاہب کو مختلف تہذیبوں نے جنم دیا ۔ فرائیڈ کا ماننا تھا کہ ہر انسان کی نفسیاتی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہی وہ خواہش کرتا ہے کہ اسکے پاس کوئی بہت ہی طاقتور ساتھی ہو جس سے وہ دنیا کے معاملات اور ہر چیز کو ہینڈل کرسکتا ہو ہر انسان کے اندر اچھی زندگی گزارنے اور اپنی بقاء کیلئے ایسی کسی طاقت کی خواہش ضرور ہوتی ہے کہ جو اسے ہر مشکل میں مدد کرے اسکا مستقل اور مضبوط سہارا ہو اسی احتیاج نے مذاہب کو جنم دیا۔ جبکہ رومین کا خیال تھا کہ صرف یہی وجہ نہیں تھی کہ انسانوں نے ایک نہ دیکھی , نہ تجربہ کی ہستی کا تصور گھڑ لیا بلکہ اسکی وجہ ایک احساس تھا جو کسی ذاتِ اولی سے جڑنے سے ملتا ہے جس کو وہ Oceanic Feeling کہتا ہے یعنی فرد اور الگ ہونے کی بجائے اس عالم کا حصہ ہونے کا احساس انسان  تنہائی میں کبھی بھی بقاء میں کامیاب نہی ہوسکتا تھا ایک انسانی بچے جو کم سے کم دو سال تک اپنی نگہداشت کیلئے کسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا انسان کے  بقاء کے مراحل نے انسان کو یہ احساس بھی ودیعت کیا کہ وہ تنہا نہیں رہے بلکہ اس عالم کا حصہ ہو اور اس سب عالم کا کچھ معنی و مطلب اخذ کرے ۔


جبکہ فرائیڈ رومین رولانڈ کی بات سے اختلاف کرتا ہوا کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے مذہب کا ماخذ دراصل انسانی بچپن میں پنہاں ہے ۔ چونکہ ایک انسانی بچہ خود کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتا وہ اپنے کھانے پینے گویا اپنی زندگی کیلئے خود پر منحصر ہونے کی بجائے اپنے والدین یا نگہداروں کا محتاج ہوتا ہے۔ جو اسکے لیے سب کرتے ہیں مذہب بھی اسی احتیاج کو پورے کرنے کی کوشش ہے ۔


انسان جبلتی طور پر لذت کے اصول پر چلنے والی مخلوق ہے جو اپنی لاشعوری قوتوں کے تحت کام کرتی ہے لیکن معاشرتی نظام ٫ رسم و رواج اسکی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں فرائیڈ کا ماننا ہے کہ بہت بہت  زیادہ خوارک کھانا  ٫ بہت بہت زیادہ سیکس کرنا یہ انسان کیلئے ممکن ہی نہیں ہے انسان کی ایک لمٹ ہے جس سے زیادہ وہ خود کو لذت نہیں دے سکتا یہ سلسلہ بہت محدود وقت کیلئے ہوتا ہے اور یہ سب عارضی ہوتا ہے ۔ اس لیے معاشرے کا انسانی جبلتوں کے اظہار پر پابندی لگانا کوئی دانستگی نہی ہے ہمارے جسم میں تلذذ و راحت کی وقتی حد ہے جس کے بعد لذت و راحت تھم جاتی ہے چاہے وہ سیکس سے متعلقہ ہو کھانے سے کسی خوشخبری سے یا پھر کسی بھی چیز سے متعلق ہو۔


نطشے کی طرح فرائیڈ کا بھی یہی ماننا تھا کہ انسان کے ذہنی ڈیزائن میں مستقل خوشیوں کا نظام ہی نہیں ہے انسان صرف عارضی خوشیوں پر ہی چلتا ہے مستقل  کوئی  خوش نہیں رہ سکتا ۔  انسان کو  ڈیزائن ہی ایسے  کیا گیا ہے ۔


فرائیڈ کہتا ہے کہ ہر انسان درد سے احتراز اور راحت و سکون کا طلبگار ہوتا ہے لیکن مستقل راحت و سکون انسان کی فطرت میں موجود ہی نہیں انسان کو خوشی و انبساط فراہم کرنے والے ہارمونز و نیوروٹرانسمیٹرز کچھ ہی دیر کیلئے سرگرم رہ کر خوشی و راحت کا احساس دے سکتے ہیں۔ پس انسان کے اندر مستقل راحت و سکون کی طلب کی خواہش اسکو کئ پناہوں کی طرف گامزن کرتی ہے جہاں سے وہ راحت و سکون کشید کرتا ہے   ۔  تلخ واقعات اور مشکل حالات میں اسکو دکھ و تکلیف سے احتراز کرنے کیلئے مذہب کی پناہ ٫ نشئے کی پناہ یا کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ضرور محسوس ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملحد و کافر بھی مشکل حالات میں کہیں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ انکی غیبی مدد ہوجایے ۔بہرکیف فرائیڈ کہتے ہیں درد و الم سے احتراز و احتیاط کرنے کے کئ طریقے انسانوں نے اپنائے ہیں اس میں سے مذہب بھی ایک ہے جو انسان کو پر امید رکھتا ہے اور مشکل کے ٹل جانے کی یقین دہانی کرواتا ہے۔


جبکہ کچھ مذہبی حلقے رہبانیت و سادھو ہونے کی ترغیب کرتے ہیں کہ لذت کو ہی ترک کردو تاکہ ہمیں اسکی احتیاج ہی نہ رہے کیونکہ یہ سب راحتیں عارضی ہیں ہمیں خود کو  عالم(خدا) میں تحلیل کر کے ہی حقیقی دولتِ سکوں مل سکتی ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو ایسے دھرم و عقائد بھی دراصل درد و الم سے احتراز اور راحت و سکون کی تلاش میں ہوتے ہیں ۔


فرائیڈ ہمیں اس درد و الم سے احتراز کا کوئی ایک حل بھی فراہم نہیں کرتے اور اوپر سے یہ کہتے ہیں کہ کوئی  ایک نصیحت سب کیلئے سود مند نہیں ہو سکتی اسی لیے سب لوگوں کو زندگیوں کی تلخیوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے ایک ہی چیز کو اپنانا مثبت نتائج کا متحمل نہیں ہوسکتا  ؟ اس لیے سب کو اپنے تحفظ کیلئے اپنے سکون کیلئے مختلف راستوں کا سفر کرنا پڑ سکتا ہے ۔ 


فرائیڈ تہذیبوں کی بنیاد میں ایک مرد و عورت کا رشتہ دکھاتے ہیں جس میں آپس میں تعلق بنانے کی وجہ ایک دوجے کو راحت و سکون دینا تھا اور تحفظ کے حصول کیلئے اولاد اور پھر خاندانی نظام اور اسکی ارتقائی شکل میں تہذیبوں کا جنم ہونا شروع ہوا ۔


اس طرح تہذیبوں نے انسانوں کے تحفظ و راحت کے حصول کا بیڑہ اٹھا لیا لیکن پھر تہذیبوں میں قائم ہوئے رسم و رواج اور اصولوں سے انسانی جبلتوں کا استحصال ہونا شروع ہوگیا کئ جذباتی معاملات کو دبانا اور اسکو غلط سمجھنا حکم قرار پا گیا، تہذیبوں میں جنم لینے والے مذاہب نے انسانوں کی جبلتوں پر پابندیاں عائد کردیں لیکن اسکے باوجود بھی جبلتوں کا اظہار ہوتا رہا  جس پر سخت قوانین سخت سزائیں بنائی گئیں لیکن  یہ  تہذیبی حربے  انسانی جبلتوں کو دبانے میں تو کسی نہ کسی حد تک کامیاب رہے لیکن اسکے اثرات بہت برے ہوئے جس سے آج بھی نفسیاتی مسائل کا جنم ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...