Skip to main content

نظریہ تحلیل النفسی اور ہسٹیریا

 

   نفسیاتی امراض کی تاریخ   

                                                    تحریر : اسامہ رضا 

                       نظریہ تحلیل النفسی اور ہسٹیریا

انیسویں صدی میں ہسٹیریا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ماہر نفسیات کو اس الجھن میں ڈال دیا تھا کہ اس عارضے سے آخر کیسے نبٹا جائے تاریخ میں اس پر ہوئے علاج کے متعدد طریقوں میں سے کوئی بھی خاطر خواہ کامیاب نہیں تھا اور نہ ہی اس بیماری کی علت و وجوہات کی توضیح ہوچکی تھی ۔ یوں تو تاریخ میں ہسٹیریا اور پاگل پن کے دورے پڑنے والی اس بیماری کے متعلق متعدد من گھڑت عقائد اور نظریات تھے لیکن سائنسی نظریات کے حوالے سے نفسیات کے میدان میں ابھی کافی جگہ باقی تھی۔ ابھی نفسیات کا سائنسی طور پر آغاز ہی ہوا تھا اب اس میدان میں اپنا فکری حصہ ڈالنے کا وقت تھا۔ اسی دور میں  جوزف برئیر اور سگمنڈ فرائیڈ  ہسٹیریا کے مریضوں کو سمجھنے اور انکے علاج معالجے میں الجھے ہوئے تھے۔  


سگمنڈ فرائیڈ نے پہلے تنویمی طریقہ علاج کو اپنایا  لیکن بعدازاں جوزف بروئیر جو عمر میں فرائیڈ سے چودہ سال بڑے تھے ہسٹیریا کا علاج مریض کے ساتھ مخصوص گفتگو سے کرتے تھے ۔  فرائیڈ نے اپنے طرزِ علاج  میں بھی مریض کے ماضی میں ہوئے واقعات کو لاشعور سے شعور پر ابھارتے تو انکے اظہار سے مریض اپنی حالت میں کافی افاقہ محسوس کرتا ۔ یہ طرزِ علاج جس کو تحلیل النفسی کہتے ہیں کامیابی سے مریضوں کا علاج کرنے میں موثر تھا ۔ فرائیڈ اور بروئیر نے ہسٹیریا پر  ایک مقالہ بھی  لکھا : 


On the Psychical Mechanism of Hysterial Phenomen


درحقیقت بروئیر ہی وہ شخص تھا جس نے سگمنڈ فرائیڈ کو تحلیل النفسی کی راہ دکھائی  لیکن بعدازاں فرائیڈ کا جوزف بروئیر سے اختلاف شروع ہوگیا اور یہ ساتھ ختم ہوگیا ۔ اختلاف کی کلیدی وجہ فرائیڈ کے انسانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کے نظریات تھے جو جنسی خواہشات کے گرد گھومتے تھے۔


جوزف بروئیر اور سگمنڈ فرائیڈ نے اپنے تجربات اور تفکر سے ہسٹیریا کی نفسیاتی توجیہات کا پردہ چاک کردیا ۔ انکے مطابق ہسٹیریا کی جڑیں عضویات و جسم میں ہونے کی بجائے نفسی وظائف کے خلل میں پنہاں ہوتی ہیں ۔ گویا ہسٹیریا کا تعلق جسم یا عضو سے ہونے کی بجائے انسان کے ذہنی و نفسی فساد سے ہے ۔ انسانی زندگی میں پیش آنے والے واقعات و تجربات خاص طور پر جن کا تعلق نفسی وظائف سے ہو یا مشکل خوف و خطر والی صورتحال سے وہ کبھی بھی انسان کے ذہن سے ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ لاشعور میں کسی نہ کسی حالت میں ہوتے ہیں اور ہمارے افکار و اعمال پر اپنا اثر رکھتے ہیں ۔ کتاب سے ایک پیراگراف ملاحظہ فرمائیں


 “Our experiences have, however, shown that the most diverse symptoms which are held to be spontaneous, so to speak idiopathic products of hysteria, maintain an equally compelling connection to there precipitating trauma as do those phenomena mentioned above where the connection is quite transparent.”


گویا  ہسٹیریا کسی شخص کی زندگی میں بظاہر غیر متعلقہ اور اکثر بھول جانے والے واقعات سے ابھر سکتا ہے۔  اور اسکا علاج میں  بات کرنے، بھولی بھٹکی یادوں کو  اور تجربے کو دوبارہ زندہ کرنے سے انسان اس کے منفی اثرات پر قابو پا سکتا ہے۔ اور ہسٹیریا کی علامات جب ان بھولی بھٹکی یادوں کو بار بار شعور کے پردے پر ابھارا جاتا ہے اور مریض کو اسکے اظہار کا موقع دیا جاتا ہے تو یہ علامات بتدریج زائل ہونے لگتی ہیں اور مریض کچھ حد تک خود کو بہتر محسوس کرتا ہے ۔ کتاب میں اسکا ذکر فرائیڈ و بروئیر کچھ اس طرح کرتے ہیں: 


 “Our experiences have, however, shown that the most diverse symptoms which are held to be spontaneous, so to speak idiopathic products of hysteria,  “For we found, at first to our great surprise, that the individual hysterical symptoms disappeared immediately and did not recur if we succeeded in wakening the memory of the precipitating event with complete clarity, arousing with it the accompanying affect, and if the patient then depicted the event in the greatest possible detail and put words to the affect.”


تحلیل النفسی کے طریقہ کار میں فرائیڈ اور جوزف بروئیر Catharsis اور Abreaction 

کا اطلاق مریض کے ماضی میں ہونے والے ذہنی دباؤ اور جذباتی واقعات اور تجربات پر کرتے ۔ 


کتھارسس سے مراد کسی جذباتی واقعی کو لاشعور پر ابھار کر اس پر مریض کو مغموم کیا جاتا تاکہ تلخ واقعات اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے تجربات کا اظہار ہوسکے ۔ اس امر کیلئے مریض کو کھل کر رونے اور اپنے غم کے اظہار کی اجازت ہوتی تھی ۔ 


اسی کے ساتھ مریضوں کی بھولی بھٹکی یادوں کو  Abreaction کے ذریعے انکا جذباتی اثر زائل کرنے کیلئے ٫ تلخ واقعات کو شعور پر ابھار کر  اس واقع کے ساتھ جڑے کسی جذبہ یا احساس کا اظہار کروایا جاتا اور مریض کو اسکے حوالے سے اقرار ٫ انکار یا حقیقت کو قبول کرنے کیلئے قائل کیا جاتا تھا ۔ 


بعض کیسز میں مریض پر یہ دونوں طریقہ کار صحیح سے کام نہیں کر پاتے تھے کیونکہ ایسے مریض جو کسی زندہ صورتحال جو ابھی جاری ہو اس سے نبرد آزما ہوں انکے واقعات کو شعور پر ابھارنا نہایت مشکل تھا ۔ ایسی صورتحال میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے اور وہ کسی بھی طرح کچھ ایسا بتانے سے قاصر ہوتا ہے جس سے تحلیل النفسی کو چلایا جاسکے۔بعض اوقات ایسا سماجی دباؤ یا گھریلو دباؤ کی صورتحال میں اکثر و بیشتر ہوتا ہے ۔


فرائیڈ کے مطابق تحلیل النفسی کا طریقہ علاج اس لیے قابلِ اطلاق ہے کہ یہ کسی ذہنی فکر ٫ جذبے یا احساس کے منفی اثر کو اسکے اظہار و اقرار کے ذریعے کم کردیتا ہے ۔ اور ہسٹیریا کی علامات بتدریج تحلیل ہوتی جاتی ہیں اور مریض ایک سکون کی حالت کی طرف چل پڑتا ہے۔


ایک مریضہ جس کا کتاب میں فرضی نام Anna O تھا جسے ہسٹیریا کی علامات تھیں اور دائیں حصے میں فالج ہوچکا تھا جوزف بروئیر سے اپنا علاج کروا رہی تھی ۔  


جب Anna O کیس کا مطالعہ کیا گیا تو پتا چلا کے اسکے والد بہت شدید بیمار تھے جس کی وجہ سے والد کی دیکھ بھال کا سارا ذمہ اس پر ایک دن جب اسکے والد کی طبیعت کافی بگڑی تو ڈاکٹر کو ویانا سے آنے میں کافی وقت لگا اس دوران Anna O پریشانی اور شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے جب باپ کے پاس کرسی پر بیٹھی تو کچھ دیر کے بعد اسکو یوں لگنے لگا جیسے پیچھے سے ایک سانپ اسکے والد کی طرف بڑھ رہا ہے Anna O جب کرسی سے اٹھنے کی کوشش کرتی ہے تو اسکا دائیاں حصہ مفلوج ہوچکا ہوتا ہے جب وہ اپنے دائینے ہاتھ کی طرف دیکھتی ہے تو اسکی انگلیاں سانپوں کے سروں کی طرح بڑھ کر اسکے باپ کی جانب بڑھ رہی ہوتی ہیں کچھ دیر بعد ٹرین کا سائرن بجتا ہے اور یہ واپس اپنی حالت میں آتی ہے لیکن اسکا ایک حصہ مفلوج ہوچکا ہوتا ہے ۔


اس کے بعد مسلسل اسکو کبھی وائپر کبھی اور کوئی چیز سانپ بن کر نظر آتیں اور ہذیان ( Hallucinations) کا سامنا رہتا ۔ 


 اسکے علاج کے دوران جو نفسی وظائف کے اعمال میں فساد سامنے آیا وہ کچھ ایسے تھا  اس لڑکی کی پسند کی شادی طے ہوچکی تھی لیکن لڑکی کا والد شدید بیماری  تھا اور اسکی دیکھ بھال کا سارا ذمہ اسکی اکلوتی بیٹی پر ہی تھا ۔ لڑکی اور اسکے باپ کے سوا گھر میں کوئی اور فرد نہیں تھا ۔ 


اس  صورتحال میں لڑکی کے ذہن میں  دو قوتوں کے درمیان فکری محاذ آرائی تھی ۔ ایک طرف اسکے لاشعور میں موجود اڈ کی طاقتیں اسکو تسکین و انبساط اور آرام و سکون کیلئے مائل کرتیں تھیں کہ کب تمہاری شادی ہوگی ۔ جبکہ دوسری جانب سماجی اخلاقیات یا ضمیر کی آواز اسکو اپنے باپ کو اس حالت میں چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں ۔ 


اس ذہنی تناؤ کی صورتحال میں وہ لڑکی ہسٹیریا کے مرض میں مبتلاء ہوجاتی ہے ۔ فرائڈ کا کہنا ہے کہ اس کا ابنارمل ہونا اصل میں اس تناؤ کی صورتحال سے بھاگنے کا ایک واحد راستہ تھا ۔ اسی لیے انسان ذہنی تناؤ , تشویش اور شدید اضطرار کی صورت میں کسی نفسیاتی مرض کا شکار ہوجاتا ہے۔  


یہ نفسیاتی مرض ایک طرح سے اس شخص کو   ناقابلِ برداشت صورتحال سے فرار کرنے کا راہ ہوتا ہے ۔



Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...