Skip to main content

نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

 غالب فہمی 

غزل .1

تحریر : اسامہ رضا


قش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا 

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا 



کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ 

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا 


جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے 

سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا 


آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے 

مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا 


بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا 

موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا




نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا 

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا


دیوانِ غالب کی پہلی غزل کا یہ پہلا شعر ہی اس قدر گنجلک اور فکر آزمائی کا مطلوب ہے کے متعدد شارحین نے اسکے مفہوم کو سمیٹنے کی کوشش کی لیکن کوئی کماحقہٗ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ شارحین اس شعر کے معنی اپنی فکری صلاحیتوں کے مطابق بیان کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن اس شعر میں الفاظ کے مرکباتی جمال کو بیان کرکے ایک ہی مضمون پر منتج کرنا کہیں نظر نہیں آیا۔ 

ہم دیگر شارحین کی شرح پر تنقید کی بجائے اپنے طور پر شعر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 

نقش فریادی سے مراد انسان کی ذات ہے جو فریاد کر  رہی ہے جبکہ کاغذی پیرہن سے مراد کم معیاد اور فانی ہونے  کے ہیں ۔ پیکرِ تصویر جسم یا انسان کو کہا گیا ہے۔ 

 اب اس شعر سمجھنے کی کوشش کرتے ھیں ۔ جیسا کے ہم جانتے ہیں انسان کو اشرف المخلوقات اور خدا کی سب سے عظیم تخلیق سمجھا جاتا ہے ۔ خدا نے انسان کی تخلیق کو بہترین تخلیق کے طور پر مذہبی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ لہٰذا غالب خدا کی اس تخلیق پر سوال اٹھاتے ہیں کے یا خدا یہ تیری عظیم تخلیق تو فریادی ہے یعنی چینخ رہی ہے رورہی ہے ۔ معنیٰ زندگی کی دشواریوں سے سمجھنا آسان ہے چونکہ دنیا کے مصائب و الم ہر انسان کو رنجیدہ و غمزدگی کا وہ ٹیکہ لگاتے ہیں کے بڑے بڑے صابر بھی کلبلا اٹھتے ہیں کے ہم سے یہ غم بھری زندگی برداشت نہیں ہوتی۔ گویا جہاں جہاں ہستی ہے وہاں وہاں رنج و الم کے ڈیڑے ہیں ۔ تو غالب کہتے ہیں یہ کیسی تیری عظیم تخلیق ہے جو ہمہ وقت فریاد کرتی رہتی ہے اور غموں میں رنجیدہ رہتی ھے۔ کیا یہ ہے تیری بہترین تخلیق ؟ جبکہ دوسری طرف اس پیکرِ تصویر کا وجود بھی فانی ہے اور اس نے صدا ایسے ہی نہیں رہنا بلکہ فنا ہوجانا ہے۔ کچھ سالوں کی زندگی کے بعد اس کا ختم ہونا بھی عین حقیقت ہے۔ اب اگر اوپر کی دونوں باتوں کو جوڑ کے پڑھیں تو مفہوم یوں بنتا ہے کے جس تخلیق پر تجھے فخر ہے کے یہ بہترین تخلیق ہے اسکا حال تو دیکھ وہ چینخ رہی ہے فریاد کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف وہ لافانی بھی نہیں کچھ ہی سالوں میں وہ اپنی ہستی کھو بیٹھتی ہے ۔ گویا جس تخلیق پر تو شوخ ہے  ایک تو اس  تخلیق میں سقم ہے جبکہ دوسری طرف وہ ختم ہونے والی ہے اسکو جاودانی حاصل نہیں ۔



غالب فہمی 

تحریر  : اسامہ رضا 


کاو کاوِ سخت جانی  ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح  کرنا شام کا،  لانا ہے جوئے شیر کا


( متعدد شارحین اس شعر کی شرح کرچکے ہیں تقریباً تمام شارحین نے اس شعر کے معقول و قریب قریب صحیح معنی بیان کرنے کی سعی کی ہے ۔ بدقسمتی سے  متنوع و مختلف اذہان کی فکری کاوشوں کے باوجود بھی شعر اپنے اندر مضمر دقیق معنی مفہوم پر ایک لطیف چلمن اوڑھے ہوئے ہے جس سے شعر کے اندر پنہاں مضمون کی تصویر نظر تو ضرور آتی ہے مگر وہ دھندلی ہے ۔)




 لغات :  

کاو ; گشت کرنا , جدوجہد کرنا , کوشش کرنا , تگ و دو کرنا 

(اس لفظ کے کئ معنی بیان ہیں ان میں سے ایک معنی کو تطبیقی غرض  سے چنا گیا ہے ) 


 کاوِ : کھودنا 

جوئے شیر : دودھ کی نہر چونکہ پہاڑوں سے بہتے چشمے دور سے دودھ کی مانند بہتے نظر آتے ہیں ۔ مزید یہ کے جوئے شیر کی اصطلاح بطورِ تلمیح مستعمل ہے جس میں مشہورِ زمانہ عشقی افسانہ مراد ہے ۔ جس واقعے کی رو سے فرہاد کو شیریں سے شادی کی کٹھن شرط یہ رکھی گئ تھی کے اگر فرہاد شیریں کی بستی سے دور موجود پہاڑ کو کھود کر نہر کو شیریں کی بستی کی جانب رواں کردے تو اس کی شادی شیریں سے ہوسکتی ہے بصورتِ دیگر فرہاد کو شیریں کی دوری کو قبول کرنا ہوگا۔ کہا جاتا ہے کئ برسوں کی سخت محنت کے بعد فرہاد نے یہ کارنامہ کر دکھایا لیکن جب وہ اپنے کارنامے کو حقیقت بنا کر لوٹا تو اسے پتا چلا کے شیریں کی شادی کو ہوئے تو کئ برس گزر چکے ہیں ۔ خدا جانے اس واقعے میں کتنی حقیقت ہے اور کتنی اختراع بر کیف عشاق آج بھی اس واقعے کے ذکر سے اپنا خون گرماتے ہیں ۔اور اسی امر کا عکس دوسرے شعراء کی مانند غالب کے شعر سے بھی جھلکتا نظر آتا ہے ۔


شرح :  کاو کاو سے مراد ہے سخت گشت کرکے کوسوں دور جا کر کھودنا اور دوسرے مصرعے کی رو سے معنی کچھ یوں ہوجائے گا کے کوسوں دور جاکر پہاڑ کھودنا۔ الغرض جس طرح فرہاد نے شیریں کی خاطر اتنا گشت کرکے اتنا سفر طے کرکے تیشے سے پہاڑ کھودنے جیسا کٹھن کام کیا تھا ۔ بلکل اسی طرح ایک عاشق کا محبوب کے بغیر دن کو گزارنا حتیٰ کے شام ہوجائے ایک جتنی مشکل اور کٹھن چیز ہے۔ 


القصہ مختصر جس قدر مشکلوں اور اذیتوں سے فرہاد کو پہاڑ کھود کر نہر رواں کرنے میں گزرنا پڑا تھا اتنی اذیت ناک اور کٹھن صورتحال سے ایک عاشق کو صبح سے شام کرنے میں گزرنا پڑتا ہے۔ 


اب اس شعر میں پنہاں ایک   لطیف و دقیق نکتے کو سمجھنے کی سعی کرتے ہیں ۔ شعر و شاعری سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہوں گئے کے تقریباً تمام شعراء شبِ غم , شبِ ہجراں اور شبِ فراق جیسی اصطلاحات کو استعمال کرکے ہمیشہ یہ بتانا چاہتے ہیں کے عاشق کےلیے مشکل اور اذیت ناک کام شب یعنی رات کو کاٹنا ہے۔اکثر شاعر یہ مضمون باندھتے نظر آتے ہیں کے عاشقوں کیلیئے رات کاٹنا بہت مشکل اور تکلیف دہ کام ہے ۔ یعنی عشق ہونے کے بعد عاشق کا نیند لینا مشکل ہوجاتا ہے اور وہ رات بھر محبوب کے خیالوں میں کھویا و غرق رہتا ہے اور کبھی اسکی جدائی کے غم میں محوِ ماتم رہتا ہے ۔ اس 

حوالے سے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں : 


مانا  شمار  تاروں کا کرنا محال ہے  

لیکن کسی کو نیند نہ آئے تو کیا کرے 


الہیٰ ہماری یہ شب کیسی شب ہے 

نہ روتے کٹے  ہے  نہ سوتے کٹے ہے


رات کٹتی ہے گن گن کے تارے نیند آتی نہیں ایک پل بھی 

آنکھ لگتی نہیں اب ہماری آنکھ اس بت سے ایسی لگی ہے


غالب اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اپنے اس شعر میں ایک منفرد مضمون باندھتے ہیں کے عاشق کیلئے صرف رات کو گزارنا تکلیف دہ اور مشکل نہیں بلکہ اسکا دن سے شام کرنا بھی انتہائی کٹھن ہے گویا اس قدر کٹھن ہے کے یہ فرہاد کے جوئے شیر کو کھود کے رواں کرنے کے مترادف ہے۔ 


بات ادھر ہی ختم نہیں ہوتی غالب اسی شعر میں یہ بھی تسلیم کرتے ھیں کے عشاق کا دن کو شام کرنا اگرچے بہت کٹھن اور اذیّتوں سے پر ہے لیکن یہ ممکن ہے اور بلآخر عاشق تمام فکری اذیتوں و آلام کے باوجود دن شام میں بدل ہی جاتی ہے۔ 


جبکہ غالب کے نزدیک تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کے دن تو شام میں  کسی نہ کسی طرح درد و آلام کو سہتے بدل جاتی ہے۔ لیکن شام جب شب میں تحلیل ہوتی ہے تو غالب فرماتے ہیں کہ


نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں 

شب فراق سے روز جزا زیاد نہیں 


یعنی ایسا نہیں کے مجھے قیامت پر ایمان نہیں لیکن شبِ فراق سے قیامت کا دن بڑا نہیں ہوسکتا ۔ آسانی کیلئے یوں سمجھ لیجیئے کے غالب کہنا چاہتے ہیں کے شبِ فراق میں اتنی طوالت و تکلیف مضمر ہے  گویا اسکے آگئے قیامت کے دن کی طوالت کا تصور ہیچ ہے۔ 


اب مضمون کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ غالب کے مطابق دن کا تو شام میں تبدیل ھونا ممکن ہے اور اس دوران گزرنے والی مصیبتوں , تکلیفوں اور اذیتوں کا تصور ممکن ہے جس کا پیمانہ غالب نے فرہاد کی تلمیح کی صورت میں پیش کردیا کے اتنا مشکل ہے عاشق کا شام کو دن کرنا ۔ جبکہ شبِ فراق و ہجر کا تصور اور اس میں پیش آنے والی اذیتوں کا اور طوالت کا تو تصور قیامت سے بھی آگئے کا ہے القصہ مختصر شبِ فراق کی مصیبتوں , اذیتوں اور طوالت کا تصور بھی محال ہے۔ تحریر کا اختتام غالب کے ایک شعر پر کرتے تاکہ ایک اور شعر کو اس ضمن میں سمجھنا آسان ہوسکے۔ 


ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے 

ایک شمع ہے دلیلِ سحر سو خاموش ہے


جذبہ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے 

سینہ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا 


دم شمشیر - تلوار کی دھار 


شرح : حاصلِ شعر یہ ہے کے غالب کہتے ہیں کے میرا شوق قتل یعنی قتل ہونے کا شوق اس قدر قابلِ دید ہے کے تلوار کا دم بھی سینے سے نکل کر باہر آگیا ہے مراد تلوار کا جھکاؤ ہے جس کو غالب نے دم شمشیر کہا ہے۔ 


القصہ مختصر میرے قتل ہونے کے بے اختیار جذبہ کو دیکھ کر تلوار کا دم اسکے سینے سے باہر نکل آیا ۔ غالب کا یہ شعر کمالِ حسنِ مشاہدہ کی ایک بہترین مثال ہے۔



بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِ پا 

موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا 


موئے آتش دیدہ: ایسا بال جس نے آتش کا دیدار کیا ہو ۔ گویا ایسا بال بل کھا کر اور مڑ کر حلقہ زنجیر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔


شرح : غالب کہنا چاہتے کے اس عالمِ اسیری میں بھی مجھے چین نہیں اور بے چینی کا وہ عالم ہے جیسے میرے پاؤں کے نیچے آتش ہو ۔ اور  اگرچہ میرے پاؤں میں زنجیر ضرور ہے لیکن اسکی حیثیت موئے آتش دیدہ سے زیادہ نہیں ۔ یعنی یہ قید و زنجیر مجھے روک نہیں سکتی جو میرے اندر ولولے اور خیالات کا سیلاب ہے اسکو معاشرے کی روایات و ضابطوں کی زنجیریں نہیں روک سکتیں کیونکہ میری بے تابی اور اضطراری کے آگئے ان زنجیروں کی حیثیت موئے آتش دیدہ ہے۔

گویا یہ شعر دیوانِ غالب کی پہلی غزل کا مقطع ہے تو اس میں غالب یہی کہنا چاہ رہے ہیں کے جو میرے اندر ہے جو میں دیکھتا ہوں یا جو میرے اندر خیالات کی دنیا مجھے بیتاب کیے ہوئے ہے اسکی شدت و طاقت اس قدر ہے کے  معاشرے کی روایات و قوانین اس کو روکنے سے قاصر رہیں ہیں  ۔

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...