Skip to main content

History of Psychology by Osama Raza - نفسیات کی تاریخ کا پہلا تجربہ

 


نفسیات

قسط : ۱

تحریر : اسامہ رضا

یہ تقریباً ساڑھے چھ سو ( 650 ) قبلِ مسیح کی بات ہے مصر میں سماٹیک اول ( Psmatik 1) کی حکومت میں نفسیات کی تاریخ کا پہلا تجربہ ہونے  جارہا تھا ۔

تجربے کا پس منظر جستجوئے انسانی کی بے مثل داستان ہے ۔ مصر کے لوگ خود کو دنیا کی قدیم ترین تہذیب گمان کرتے تھے اور اسی دعوے کے تناظر میں وہ سمجھتے تھے کے اہلِ مصر کی زبان بھی قدیم ترین زبان ہے۔ اسی دعوے کو پرکھنے کیلیے اور اہلِ مصر کی عظمت کے تجرباتی بیانیے کےلیے بادشاہ نے  ایک مفروضے کا سہارا لیا کے اگر دنیا کی قدیم ترین زبان اہلِ مصر کی ہے تو ایک نومولود بچے کو وہی زبان فطرتی طور پر آنی چاہیے ۔

اس دعوے کو آزمانے کیلئے  دو نومولود بچوں کو پیدائش کے وقت ہی ایک مخصوص جگہ پر پرورش کیلئے رکھ دیا گیا۔ اور اس مخصوص جگہ میں انتظامات ایسے کیے گئے کے کسی بھی طرح انکے کانوں میں کوئی بھی آواز نہ پہنچے ۔ بچوں کے کھانے پینے اور صحت کے مکمّل انتظامات کے ساتھ انکی سماعتوں تک کسی بھی آواز کی رسائی پر  پابندی کو یقینی بنایا گیا۔

وقت گزرتا گیا اور بچوں کی گویائی کی طاقت نے بلاآخر اپنا کام کر دکھایا ۔ تقریباً دو سالوں کے بعد جب وہاں موجود شخص جو انکی حفاظت و دیکھ بال پر مامور تھا اسکے کانوں کے پردوں نے جنبش کی , یہ آواز ایک بچے کی طرف سے اسکی سماعتوں تک پہنچی تھی۔ اس نے کافی سمجھنے کی کوشش کی لیکن یہ کوئی با معنی لفظ نہیں تھا۔ لیکن جب دوسری دفعہ بیکوس ( Becos)  اور پھر متعدد دفعہ بیکوس کی صدا آئی تو اب یہ معاملہ تجسس پکڑ گیا اور بلاآخر بادشاہ تک یہ اس سارے واقعے کا احوال پہنچا دیا گیا۔ اہلِ مصر کے زبان دانوں نے اس لفظ کا مطلب بتانے سے ہاتھ اٹھا لیئے  اور صاف کہہ دیا کے یہ لفظ اہلِ مصر کے زبان و ادب کا حصہ  نہیں ہے ۔

معاملہ کی سنجیدگی کے پیشِ نظر بچے کو جب دربار میں لایا گیا تو بادشاہ کے سامنے بھی جب بچے نے لب کشائی کی تو بیکوس کی طرح سمجھ آنے والی صدا نے دوبارہ سماعتوں کو محوِ حیرت کردیا۔ بلاآخر تحقیق و تلاش کے بعد پتا چلا یہ لفظ قدیم زبان فرائجین ( Phrygian )   کا لفظ ہے جس کا معنی روٹی ہے۔ اور اس طرح اہلِ مصر نے اس تجربے سے اپنے ہی  عقیدے کی  کمر توڑ لی کے فرائجن زبان دنیا کی قدیم ترین زبان ہے اور خدا کی تخلیق کردہ زبان ہے ۔

خیر یہ تو انسانی تجسس و اندازِ فکر کی ایک داستان تھی جسے نفسیات کا پہلا تجربہ بھی کہا جاتا ہے۔

جبکہ ہم جانتے ہیں کے انسان کی کوئی فطرتی یا قدرتی زبان نہیں ہے جس میں وہ لب کشائی کرسکے اور زبان و بیان انسان کی دریافت نیز پیدا ہونے والے بچے کا ذہن بلکل ایک صاف  تختی کی مانند  ہوتا ہے ۔ جس پر اسکا ماحول اور اسکی حسیات سے جمع ہونے والا ڈیٹا تحریر کا کام کرتا ہے۔

پھر سوال یہ اٹھتا ہے کے وہ بیکوس کی صدا اور اس لفظ کا معنی کیا تھا۔ یہ سوال قارئین پہ چھوڑتے ہیں کے انکی رائے اس بارے میں کیا ہے۔

تحریر : اسامہ رضا

Comments

Popular posts from this blog

Depression Test

Click the link to generate the Depression Assessment Quiz Click Here!

شعور لاشعور اورتحت الشعور

سگمنڈ فرائڈ انسانی شخصیت کی ساخت ( تھیوری آف مائینڈ )   قسط نمبر : 2 تحریر : اسامہ رضا یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال   کی توجہیہ و توضیح کیلئے   اسکو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ 1- Conscious MinD ( شعور ) 2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور ) 3-Unconscious   Mind ( لاشعور ) ۱ - شعور ( Conscious MinD) شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو   ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔ ۲ - تحت   الشعور ( Sub-Conscious Mind ) تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے ...

Sigmund Freud 1.1 -Osama Raza-- ( تحلیل النفسی کا بانی ) سگمنڈ فرائیڈ

 سگمنڈ فرائیڈ  ( تحلیل النفسی کا بانی )  تحریر : اسامہ رضا  قسط : نمبر 1  علم ِ نفسیات کے بغیر شرابِ شعور اور جامِ علم  انسانی جستجو کی تشنگی کو مٹانے کیلئے ناکافی رھے ہیں ۔ یونانی فلاسفرز سے لیکر عصرِ حاضر کے سائنسدانوں نے لاکھوں ایجادات کیں اور کڑوڑوں مقفل راز آشکار کیے اتنے بڑے علمی انقلاب کے بعد بھی انسانی جستجو کو طمانیت و تشفی کی دولت میسر نہیں آسکی تھی۔ قدیم علوم سے لیکر عصرِ حاضر کی تحقیقات و افکار میں ایک بات مشترکہ تھی کے انسان کی ساری تحقیق کا مرکز  و محور مادہ ( Matter ) تھا اسی مادے کو کبھی فزکس کے قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی سعی کی جاتی تو کبھی اسکو کیمسٹری کے قوانین کی مدد سے سمجھنے کی کؤشش کی جاتی تؤ کبھی اسے بیالوجی کے تناظر میں پرکھا و سمجھا جاتا ۔ تقریباً تمام علوم و افکار مادے اور اسکے اثرات و تغیرات و تعلقات کے گرد  محوِ گردش تھے۔ حتیٰ کے انسانی رویوں کو طبعی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی اور علمِ نفسیات کی سمجھ بوجھ کے بغیر انسانی رویوں پر طبعی بنیادوں پر ایسے قوانین کو مرتب کیا گیا جو انسانی جبلت و سرشت کے منافی اور ف...